حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 381
حیات احمد ایک عجیب مقابلہ ۳۸۱ جلد چهارم حضرت اقدس نے یہ تحری اور اعلان بارہا کیا تھا کہ مجھے قرآن مجید کے حقایق و معارف کے بیان کا ایک خاص اعجازی نشان دیا گیا ہے اور باوجود انعامی چیلنج پیش کرنے کے کوئی مقابلہ میں نہ آیا یہاں اللہ تعالیٰ نے ایک خاص سامان پیدا کر دیا کہ رئیس المکفرین مولوی محمد حسین مقابله میں قدرتی طور پر آ گیا۔چنانچہ اس کی تقریر کا حاضرین جلسہ نے کس طرح خیر مقدم کیا وہ کمیٹی کی شائع کردہ رپورٹ میں یوں بیان ہوا ہے۔مولوی صاحب کی تقریر آج دس بجے شروع ہونی تھی اور اس بات کا عام طور پر اعلان ہو گیا تھا لیکن وقت مقررہ پر آج لوگ بہت ہی کم آئے اس لئے ٹھیک وقت پر تقریر شروع نہ ہو سکی۔ساڑھے دس بجنے میں ابھی کچھ منٹ باقی تھے کہ خاں بہادر شیخ خدا بخش صاحب حج نے اعلان کیا کہ مولوی محمد حسین صاحب مولوی عبداللہ صاحب کی جگہ بیان فرماویں گے۔اصل میں آج کے اجلاس کے پریسیڈنٹ جناب رائے بہا در راد با کشن صاحب کول پلیڈ ر سابق گورنر جموں تھے لیکن وہ آج تشریف نہ لا سکے اس لئے ان کا کام کرنا نہایت مہربانی سے شیخ صاحب نے قبول فرمایا۔جس کے لئے کمیٹی ان کی خاص مشکور ہوئی۔اب مولوی صاحب اسٹیج پر آئے اور انہوں نے تقریر 66 شروع کی۔“ رپورٹ جلسه اعظم مذاہب صفحہ ۱۴۱ مطبوعہ مطبع صدیقی لاہور ۱۸۹۷ء) حضرت کی تقریر کی تکمیل اور آخری اجلاس جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے پبلک کے بے حد اصرار پر ایک پورا دن حضرت کی تقریر کے لئے بڑھایا گیا چنانچہ یہ اجلاس ۲۹ دسمبر ۱۸۹۶ء بروز منگل ہوا جو وقت اس تقریر کے لئے مقرر تھا لوگ اس سے پہلے ہی جلسہ گاہ میں موجود تھے مولوی محمد حسین صاحب کی تقریر میں ساڑھے دس