حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 382
حیات احمد ۳۸۲ جلد چهارم بجے تک انتظار کرنا پڑا پھر بھی حاضری بہت کم تھی مگر حضرت کی تقریر میں نو بجے سے پہلے ہی لوگ موجود تھے اور جس قدر وقت مقرر تھا وہ ختم ہونے پر ابھی کچھ حصہ باقی تھا اور ایک عام مطالبہ تھا کہ وقت اور دیا جائے چنانچہ رپورٹ میں لکھا ہے حضرت مرزا صاحب کی تقریر کے ختم ہونے سے پہلے ہی مقررہ وقت تقریر ختم ہو چکا تھا۔لیکن اختتام وقت پر حضار جلسہ ایک طرف اور موڈریٹر صاحبان دوسری طرف اس بات پر زور دیتے تھے کہ تقریر کے ختم ہونے کے لئے وقت بڑھا دیا جاوے۔جس پر پریسیڈنٹ ایگزیکٹو کمیٹی نے نہایت خوشی سے ایزادی وقت کی اجازت دے کر ہزار ہا دلوں کو خوش کیا۔“ نفس مضمون رپورٹ جلسه اعظم مذاہب صفحه ۱۴۰ مطبوعہ مطبع صدیقی لاہور ۱۸۹۷ء) ان اقتباسات سے یہ صاف ظاہر ہے کہ لوگوں میں کس قدر جوش مسرت آپ کی تقریر پر ظاہر ہوا۔اور جیسا کہ قبل از وقت اللہ تعالیٰ سے خبر پاکر آپ نے پیشگوئی کی تھی یہ مضمون تمام مضامین پر بالا رہا۔اور اخبارات نے اس برتری کا اعلان صاف الفاظ میں کیا۔اس مضمون کا اثر جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے سے خبر دی تھی اور جسے حضرت اقدس نے انعقاد جلسہ سے پہلے شائع کر دیا تھا یہ مضمون تمام کا نفرنس کے مضامین پر فوقیت لے گیا اور لاہور میں اس وقت تک کسی جلسہ میں بھی اس قدر حاضری نہیں ہوئی تھی اور نہ کوئی جلسہ اس دلچسپی اور خاموشی سے ہوا تھا۔انجمن حمایت اسلام آریہ سماج اور دیگر مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے جلسہ ہوتے آئے تھے مگران میں یہ بات نہ تھی۔چنانچہ جلسہ کی روئداد پر جن اخبارات نے اپنے تاثرات کا اظہار کیا انہوں نے بالا تفاق اس مضمون کو بہترین تسلیم کیا یہاں تک کہ لاہور کے سیول ملٹری گزٹ نے لکھا کہ