حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 85 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 85

حیات احمد ۸۵ جلد چهارم انہیں معلوم نہیں کہ ایک ہستی قادر مطلق موجود ہے۔مگر وہ وقت آتا ہے کہ ان کی آنکھیں کھلیں گی اور زندہ خدا کو اس کے عجائب کاموں کے ساتھ بجز اسلام کے کسی اور جگہ نہ پائیں گے۔آپ کو یہ بھی یاد دلاتا ہوں۔ایک پیشگوئی میں نے اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء میں آپ کی نسبت بھی کی تھی کہ آپ کو اپنی عمر کے ایک حصہ میں ایک سخت غم و ہم پیش آئے گا۔اور اس پیش گوئی کے شائع ہونے سے آپ کے بعض احباب ناراض ہوئے تھے۔اور انہوں نے اخباروں میں رڈ چھپوایا تھا۔مگر آپ کو معلوم ہے کہ وہ پیش گوئی بھی بڑی ہیبت کے ساتھ پوری ہوئی اور یکدفعہ نا گہانی طور سے ایک شریر انسان کی خیانت سے ڈیڑھ لاکھ روپیہ کے نقصان کا آپ کو صدمہ پہنچا۔اُس صدمہ کا اندازہ آپ کے دل کو معلوم ہوگا کہ اس قدر مسلمانوں کا مال ضائع گیا۔میرے ایک دوست میرزا خدا بخش صاحب مسٹر سید محمود صاحب سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ اگر میں اس نقصان کے وقت علی گڑھ میں موجود نہ ہوتا تو میرے والد صاحب ضرور اس غم سے مرجاتے“۔یہ بھی میرزا صاحب نے سنا کہ آپ نے اس غم سے تین دن روٹی نہیں کھائی اور اس قدر قومی مال کے غم سے دل بھر گیا کہ ایک مرتبہ غشی بھی ہوگئی۔سواے سید صاحب یہی حادثہ تھا جس کا اُس اشتہار میں صریح ذکر ہے چاہو تو قبول کرو۔وَالسّلام خاکسار میرزا غلام احمد قادیانی ۱۲ مارچ ۱۸۹۷ء تبلیغ رسالت جلد ۶ صفحه ۳۹ تا ۴۲۔مجموعہ اشتہارات جلد ۲ صفحه ۴۶ تا ۴۸ طبع بار دوم ) یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ سرسید احمد خاں مرحوم کی تفسیر وغیرہ کے متعلق ابتدا ہی سے آپ کی رائے خلاف تھی۔نہ من کل الوجوہ بلکہ بعض ان مسائل پر جن کی حقیقت آپ پر بذریعہ کشف والہام