حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 84 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 84

حیات احمد ۸۴ جلد چهارم اب اصل مطلب یہ ہے کہ کرامات الصادقین کے ٹائٹل پیج کے اخیر صفحہ پر اور برکات الدعا کے ٹائٹل پیج کے صفحہ اول کے سر پر میں نے یہ عبارت لکھی ہے کہ نمونہ دعائے مستجاب اور پھر اس میں پنڈت لیکھرام کی موت کی نسبت ایک پیش گوئی کی ہے۔اور کرامات الصادقین وغیرہ میں لکھ دیا ہے کہ اس پیش گوئی کا الہام دعا کے بعد ہوا ہے کیونکہ امر واقعی یہی تھا کہ اس شخص کی نسبت جو توہین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں حد سے زیادہ بڑھ گیا تھا دعا کی گئی تھی۔اور خدا تعالیٰ نے صریح کشف اور الہام سے فرما دیا تھا کہ چھ برس کے عرصہ تک ایسے طور سے اُس کی زندگی کا خاتمہ کیا جائے گا جیسا کہ وقوع میں آیا۔اب اس پیش گوئی میں حقیقت کے طالبوں کے لئے دو نئے ثبوت ملتے ہیں۔اوّل یہ کہ خدا اپنے کسی بندہ کو ایسے عمیق غیب کی خبر دے سکتا ہے جو تمام دنیا کی نظر میں غیر ممکن ہو۔دوسرے یہ کہ دعائیں قبول ہوتی ہیں۔اگر آپ آئینہ کمالات کا وہ اشتہار جس کے اوپر چند شعر ہیں اور کرامات الصادقین کا وہ الہام جو صفحہ آخری ٹائٹل پیج پر ہے اور برکات الدعا کے دو ورق ٹائٹل پیج کے اور نیز حاشیہ آخری صفحہ کا ایک مرتبہ پڑھ جائیں تو میں یقین رکھتا ہوں کہ آپ جیسا ایک منصف مزاج فی الفور اپنی پہلی رائے کو چھوڑ کر اس سچائی کو تعظیم کے ساتھ قبول کرلے۔اگر چہ یہ پیشگوئی بہت ہی صاف ہے مگر میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ دن بدن زیادہ صفائی کے ساتھ لوگوں کو سمجھ آتی جائے گی۔یہاں تک کہ کچھ دنوں کے بعد تاریک دلوں پر بھی ایک عظیم الشان روشنی پڑے گی۔اکثر حصہ ملک کا ایسے تاریک دلوں کے ساتھ پر ہے جن کو خبر نہیں کہ خدا بھی ہے۔اور اس سے ایسے تعلقات بھی ہو جایا کرتے ہیں!! پس جیسے جیسے مچھلی پتھر کو چاٹ کر واپس ہوگی ویسے ویسے اس پیش گوئی پر یقین بڑھتا جائے گا۔میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ مجھے یہ بھی صاف لفظوں میں فرمایا گیا ہے کہ پھر ایک دفعہ ہندو مذہب کا اسلام کی طرف زور کے ساتھ رجوع ہوگا۔ابھی وہ بچے ہیں۔