حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 78
حیات احمد ۷۸ جلد چهارم ہے کہ وَمَكَرُوا وَمَكَرَ اللهُ وَاللهُ خَيْرُ الْمُكِرِينَ لا پس اُن لوگوں کی حالت پر افسوس ہے کہ جو خدا کے کاروبار پر اعتراض کرتے ہیں اور ان کے دل جلد سیاہ ہونے کو طیار ہو جاتے ہیں۔یہ بھی سوچنا چاہیے کہ پیش گوئی کا اثر پڑنے کے لئے کسی قد رقوم کا دخل ضروری ہے۔پس اگر آریہ قوم گنگا بشن کو ایسا ہی ذلیل جانتی ہے کہ باوجود یکہ وہ ان کے لئے جان دینے کو تیار ہے مگر وہ قوم اس کو اس قدر بھی عزت نہیں دے سکتی کہ دس ہزار روپیہ اس کے لئے جمع کرا دیں تو کیا ایسا ذلیل مقابلہ کے لائق ہے؟ پھر میں کہتا ہوں کہ اگر آریہ قوم در حقیقت گنگا بشن کو اپنی قسم میں سچا بجھتی ہے تو اس رقم کا جمع کرانا ان کے لئے کیا مشکل ہے لیکن اگر جھوٹ سمجھتی ہے تو پھر ایسے جھوٹے کو مقابلہ کی عزت دینا مصلحت سے بعید ہے اور نیز گورنمنٹ بھی ہمارے کاموں کو دیکھتی ہے کہ کیا ہم ادنی ادنی آدمی کے مقابلہ پر سبک مزاجی کے طور پر لڑنے کو طیار ہو جاتے ہیں یا ایسے شخصوں کے ساتھ جو ان کا مقابلہ قوم کے مقابلہ کے حکم میں ہوتا ہے اور ابتدا انہیں سے ہوتی ہے۔اور پھر یہ بھی بات ہے کہ آریہ صاحبوں کو دس ہزار روپیہ جمع کرانے میں کچھ وقت بھی نہیں۔ہم تو صرف فتح کے نشان کے لئے گنگا بشن کی لاش کے خواستگار ہیں نوٹ۔اے آریہ صاحبان آپ لوگ متوجہ ہو کر سنیں کہ گنگا بشن بہت عزت دینے کے لائق ہے۔اُس نے آپ کے لئے اپنی نوکری کو جس پر تمام دار و مدار معاش تھا ہاتھ سے دیا۔اُس نے آپ کے لئے فقر وفاقہ کو منظور کیا۔اُس نے آپ کے لئے اس بات کی بھی پرواہ نہ رکھی کہ علانیہ ایک شخص کو قاتل لیکھرام ٹھہرا کر قانونی مؤاخذہ کے نیچے آجائے گا۔پھر سب سے زیادہ بات یہ ہے کہ اس نے آریہ مت کو عزت دینے کے لئے بالا رادہ اپنی جان قربان کرنا پسند کیا اور پھر یہ کہ اپنی لاش کی ذلت کو بھی منظور کیا۔کیا ابھی آپ لوگوں کا دل اس کے لئے نرم نہیں ہوا۔کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ آپ دس ہزار روپیہ اس کے سر پر سے قربان کر دیں۔آپ انصافا کہیں کہ یہ خوبیاں اور جانفشانیاں اور آر یہ دھرم کے لئے یہ قدم صدق جو گنگا بشن نے دکھلایا لیکھرام میں کہاں تھا۔سچ تو یہ ہے کہ اندھی دنیا مردہ کا قدر کرتی ہے، زندہ کا کوئی قدر نہیں کرتا۔آپ لوگوں کو مناسب ہے کہ بلا تو قف دس ہزار روپیہ ال عمران: ۵۵