حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 77
حیات احمد 22 جلد چهارم کے سپرد ہوتا ہے۔اسی وجہ سے محمد حسین کے بارے میں دو گھنٹے تبلیغ کی شرط لگائی گئی۔اور ایک سال کی میعاد مقرر کی گئی۔اور گنگا بشن کے معاملہ میں جو ہم نے لاش لینے کی شرط لگائی یہ اس کی شرط کے بعد لگائی گئی۔یعنی جب کہ اس نے ہماری لاش لینے کے لئے شرط پیش کی۔پس ہمیں انصافاً حق تھا کہ اس کی اس درجہ کی سخت گیری اور توہین کے ساتھ ہم بھی لاش کی شرط لگاتے۔اگر فرض کر لیں کہ اس نے صرف ٹھٹھا کیا لیکن تو ہین تو کی۔اس لئے خدا نے اس کی واقعی تو ہین کا ارادہ کیا۔یہ اُس کی سزا تھی جس کی ابتدا اُسی نے کی۔یہ بھی خوب یادر ہے کہ میں بار بار لکھ چکا ہوں کہ لاش لینے کی شرط گنگا بشن نے خود کی تھی اور ایسا کلمہ منہ پر لانا میری تو ہین بلکہ دین اسلام کی تو ہین تھی۔اور اس کی سزا یہی تھی کہ فتح یابی کی حالت میں اس کی لاش ہمیں ملے تا وہ کلمہ جو شوخی سے وہ ہمارے لئے منہ پر لا یا وہ واقعی طور پر اس پر واقع ہو۔اس میں ہماری کیا زیادتی تھی۔اور کون سی ہم نے گریز کی کیا ہم نے ابتداء یہ شرط ٹھہرائی تھی جس کا دل پاک ہو اور کسی نجاست سے آلودہ نہ ہو وہ سمجھ سکتا ہے کہ خدا کی یہ عادت ہے کہ توہین کرنے والے کی تو ہین اُسی پر ڈال دیتا ہے۔دیکھو! جب محمد حسین بٹالوی نے میری نسبت یہ کہنا شروع کیا کہ یہ جاہل ہے عربی کا ایک صیغہ نہیں جانتا تو خدا تعالیٰ نے کیسی اس کی جہالت ثابت کی ہزاروں روپے کے انعام کی عربی کتابیں شائع کی گئیں۔وہ بول نہ سکا گویا زندہ ہی مر گیا۔ایسا ہی جب لالہ گنگا بشن نے لاش مانگی اور لکھا کہ میں جو کام چاہوں گا اس لاش سے کروں گا۔خدا کو یہ پسند نہ آیا اس لئے میں نے نہ اپنے نفس سے بلکہ الہی جوش سے اُس کی لاش کو مانگا۔اس بات کو یا درکھو کہ اگر وہ میدان میں آیا تو یہ سب کام اُس کی لاش سے ہوں گے۔جو میری لاش کی نسبت اس نے بیان کئے تھے۔یہی تو وہ بات