حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 76
حیات احمد جلد چهارم نے پہلو تہی کی اور بیہودہ شرائط اور پیچ در پیچ حیلہ حوالوں کی باتوں کو شروع کر دیا جیسا کہ آپ کی عادت ہے تو سب پر کھل جائے گا کہ آپ کی نیت صحیح نہیں ہے۔اور آپ اپنی پہلی شامت اعمال کی محافظت میں لگے ہوئے ہیں۔غرض یہ ہمارا آخری اشتہار ہے۔اگر آپ اپنی ملانہ حیلہ بازیوں سے باز نہ آئے تو ہم آپ کے ساتھ وقت ضائع کرنا نہیں چاہتے۔اور نہ پھر ہم آپ کو مخاطب کریں گے۔مجھے بہت افسوس ہوا کہ آپ بھی گنگا بشن کی طرح روپیہ کے لالچ میں پڑ گئے۔غالباً آپ پہلے ایسے نہیں ہوں گے۔نہ معلوم کیا کیا حاجتیں پیش آئیں۔اس جگہ یہ لکھنا بھی اپنے احباب کے لئے وصایا ضرور یہ میں سے ہے کہ ہم نے نہ محمد حسین کے لئے اور نہ گنگا بشن کے لئے کوئی ایسی شرط لگائی جو ہماری گریز اور بدنیتی پر محمول ہو سکے۔ہم خوب جانتے ہیں اور یقین کامل سے جانتے ہیں کہ ان تمام مخالفوں کو خدا تعالیٰ ایک دن ذلیل کرے گا اگر چہ خدا تعالیٰ محمد حسین کو چند ہفتہ تک جزائے بے باکی دے سکتا ہے لیکن ایک سال کی شرط بوجہ رعایت سنت اور الہامات متواترہ کے ہے۔اور محمد حسین کے لئے جو یہ شرط ٹھہرائی گئی کہ قسم کھانے سے پہلے دو گھنٹے تک ہمارے الہام اور پیش گوئی لیکھرام والی کے متعلق دلائل سنے یہ گریز نہیں ہے۔بلکہ یہ امر مسنون ہے کہ تا خدا تعالیٰ کی حجت بالمواجہ پوری ہو جائے۔ممکن ہے کہ باعث اس زنگ کے جو اُس کے دل پر ہے کوئی امر اُس پر مشتبہ ہو۔پس بالمواجہ بیان کرنے سے یہ تمام دلائل اس کے سامنے رکھے جائیں گے اور اس طرح پر خدا تعالیٰ کا الزام اس پر پورا ہو جائے گا۔بے شک اللہ تعالیٰ مفسدوں کو ہلاک کرتا ہے۔لیکن جب تک کوئی مفسد صریح جھوٹ بول کر اس کے قانون کے نیچے نہ آوے یا صریح طور پر کسی ظلم کا ارتکاب نہ کرے تب تک خدا تعالیٰ اس دنیا میں اس کو نہیں پکڑتا۔اور اُس کا حساب عالم آخرت