حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 75
حیات احمد ۷۵ جلد چهارم ہو کہ اس قدر مدت میں مر جائیں یا کوئی اور عذاب نازل ہو جائے۔لیکن میں مکرران کو سمجھاتا ہوں کہ ایک ایسے شخص کے ساتھ کہ اپنی ذکر کردہ میعاد کی بنیاد الہام ٹھہراتا ہے ضد کرنا حماقت ہے۔صاحب الہام کے لئے الہام کی پیروی ضروری ہوتی ہے۔ہاں اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ چند ہفتہ میں ان پر عذاب نازل کرے مگر ہماری طرف سے ایک برس کی ہی میعاد ہوگی۔اب اس سے ان کا منہ پھیر نا اپنے دروغ گو ہونے کا اقرار کرنا ہے۔اے شیخ بٹالوی صاحب آپ تسلی رکھیں کہ اگر آپ اپنی قسم میں بچے ہوں گے تو کوئی عذاب نازل نہیں ہوگا۔لیکن اگر قسم میں کوئی چھپی ہوئی بے ایمانی ہوگی تو خدا تعالیٰ آپ کو ضرور سزاد تھے گا تا دوسرے مولوی عبرت پکڑیں۔مگر یہ شرط ضروری ہوگی کہ قسم کھانے سے پہلے آپ جلسہ قسم میں چپ بیٹھ کر برابر دو گھنٹے تک میری وجوہات سنیں جو میں اپنے الہام اور پیش گوئی کی صحت کے وقوع کے بارے میں بیان کروں گا۔اور آپ کو اختیار نہیں ہوگا کہ کچھ چون و چرا کر یں۔بلکہ میت کی طرح عالم خاموشی میں رہ کر سنتے رہیں گے۔اور پھر اٹھ کر اسی عبارت کے ساتھ جو آپ اشتہار میں لکھ چکے ہیں تین مرتبہ قسم کھا ئیں گے اور ہم آمین کہیں گے۔صرف اس قدر عبارت میں تبدیلی ہوگی کہ بجائے فوراً کے ایک برس کا نام لیں گے۔اور اگر اب آپ حاشیہ۔اے شیخ صاحب! یہ سزا اور عذاب جو قسم کے بعد ایک برس تک آپ پر وارد ہو گا۔اس میں معجزانہ شرط ہم نے رکھ دی ہے۔کہ وہ ایسا عذاب ہو کہ آپ نے اپنی پہلی زندگی میں اس کا مزہ نہ چکھا ہو۔خواہ زمین سے ہو خواہ آسمان سے اور آپ کی مالی حالت پر وارد ہو۔اور خواہ عزت پر اور خواہ جان پر اور خواہ اس عرصہ میں تمہارے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی اور عظیم الشان اور فوق العادت نشان ظاہر ہو جائے۔جس سے ہزار ہا لوگ آپ پر لعنت بھیجیں۔اور آپ کے منہ پر تھوکیں کہ اُس نے شرارت اور خیانت سے صادق کا مقابلہ کیا مگر ہر ایک عذاب فوق العادت ہونا ضروری ہوگا۔منہ یکم مئی ۱۸۹۷ء