حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 73 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 73

حیات احمد ۷۳ جلد چهارم کہ اس کی تحقیقات کی جاوے کہ میرا کیا قصور ہے اور میں نے اپنے بیان پر مکرم مولوی محمد اسماعیل صاحب اور مکرم میاں نبی بخش صاحب رضی اللہ عنہما کی شہادت بھی اپنے بیان کے متعلق لکھوائی۔آخر میں عرض کیا کہ اگر یہ بیان بھی حضور کی نظر میں قابل سزا ہے تو میں معافی چاہتا ہوں۔اور میں نے یہ بھی عرض کیا تھا کہ میرے خلاف کیا کہا گیا ہے۔اس سے اطلاع بخشی جاوے تا کہ میں جواب عرض کرسکوں۔رحیم و کریم آقا تو پہلے ہی معاف کر چکا تھا۔حضرت مولانا عبدالکریم صاحب کا مکتوب میرے نام آیا جو صرف اس قدر تھا یہ لمبا قصہ ہے کہ کیا ہوا اور کیونکر ہوا۔غرض معاف اور قادیان آؤ۔“ جس پر میں قادیان پہنچا۔میرا قلب رقیق ہے۔حضرت اقدس سے جب میں نے مصافحہ کیا تو میری چیخ نکل گئی۔اور میں نے کہا اگر مجھے یقین نہ ہوتا کہ اس وقت زمین پر آپ کے سوا کوئی دوسرا نام نہیں ہے تو میں ہر گز آپ کے پاس نہ آتا۔مگر اسی یقین کی وجہ سے آپ کی ذراسی بھی ناراضی کو بھی برداشت نہیں کر سکتا۔حضرت نے پھر از راه ترحم فرما یا جزاک اللہ کچھ بات نہیں میں تو ناراض نہیں ہوں۔حوصلہ کرو۔اس طرح پر گنگا بشن کے معاملہ نے مجھے بھی کچھ دیر کے لئے پریشان کر دیا۔اور آج جبکہ میں اسے لکھ رہا ہوں وہ سارا منظر میرے سامنے ہے۔میری یہ تیزی طبیعت اور آزادی ضمیر کا جذ بہ اکثر میری زندگی کے نشیب وفراز میں میرا رفیق سفر رہا۔اور اب بھی ساتھ ہے۔مولوی محمد حسین میدان مقابلہ میں مولوی محمد حسین صاحب نے بھی اس موقعہ پر پیچھے رہنا نہ چاہا آریوں کو تو مقابلہ قسم کی ہمت نہ ہوئی مگر بٹالوی صاحب نے اشاعۃ السنہ میں الہامی قاتل کے عنوان سے ایک مضمون لکھا اور لیکھرام کے قتل میں حضرت کی سازش پر قسم کھانے کا اعلان کیا تو حضرت اقدس نے یکم مئی ۱۸۹۷ء کو ایک اعلان کے ذریعہ مولوی محمد حسین صاحب پر اتمام حجت کی مولوی صاحب نے فوری عذاب