حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 74
حیات احمد ۷۴ جلد چهارم کا مطالبہ کیا تھا۔جو خلاف سنت تھا۔اور اس طرح پر اس کی اشاعۃ السنہ کے دعوئی کی حقیقت بھی کھل گئی۔اس اشتہار کے بعد وہ بھی میدان سے بھاگ گیا۔وہ اشتہار یہ ہے۔محمد حسین گنگا بشن گنگا بشن محمد حسین بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ قَالَ يُقَوْمِ لِمَ تَسْتَعْجِلُونَ بِالشَيْئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ لَوْلَا تَسْتَغْفِرُونَ اللَّهَ لَعَلَّكُمُ تُرْحَمُونَ - وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ وَلَنْ يُخْلِفَ اللهُ وَعْدَهُ اشتہار واجب الاظہار شیخ محمد حسین بٹالوی ایڈیٹر اشاعۃ السنہ کا ایک اشتہار جس پر تاریخ کوئی نہیں اور جس کا یہ عنوان ہے ( الہامی قاتل مرزا غلام احمد الخ ) میری نظر سے گزرا۔شیخ صاحب کا یہ اشتہار بھی ان بیجا نیش زنبوں اور مفتر یا نہ حملوں سے بھرا ہوا ہے کہ جو ہمیشہ وہ اپنی سرشت اور خاصیت کی وجہ سے کیا کرتے ہیں۔لیکن اس وقت ان ناپاک اتہامات کا جواب دینا ضروری نہیں۔ہم ان کے دشمن اسلام رسالہ کے نکلنے کے منتظر ہیں۔تب انشاء اللہ کما حقہ اُن شیطانی وساوس کو دور کیا جائے گا۔بالفعل جس مطلب کے لئے یہ اشتہار شائع کیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ شیخ صاحب مقدم الذکر اپنے اشتہار میں لکھتے ہیں کہ لیکھرام والی پیش گوئی پوری نہیں ہوئی۔اور نیز ارقام فرماتے ہیں کہ میں اس بارے میں قسم کھانے کے لئے تیار ہوں مگر ایک برس کی میعاد سے ڈرتے ہیں۔ایسا نہ ل النمل: ۴۷ الحج: ۴۸