حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 69
حیات احمد ۶۹ جلد چهارم قاتل در حقیقت یہی راقم ہے اور وہ یقین دل سے جانتے ہیں کہ الہام اور مکالمہ الہی سب جھوٹی باتیں ہیں بلکہ اس راقم کی سازش سے وقوعہ قتل ظہور میں آیا ہے تو وہ بشوق دل لالہ گنگا بشن صاحب کو مدد دیں گے اور دس ہزار کیا وہ پچاس ہزار تک جمع کرا سکتے ہیں۔اور وہ یہ بھی انتظام کر سکتے ہیں کہ جو دس ہزار و روپیہ مجھ سے لیا جائے گا وہ آریہ سماج کے نیک کاموں میں خرچ ہوگا۔تو اب آریہ صاحبوں کا اس بات میں کیا حرج ہے کہ بطور ضمانت لاش دس ہزار روپیہ جمع کرا دیں بلکہ یہ تو ایک مفت کی تجارت ہے جس میں کسی قسم کا دھڑ کہ نہیں۔اس میں یہ بھی فائدہ ہے کہ گورنمنٹ کو معلوم رہے گا کہ آریہ قوم کی رضامندی سے یہ معاملہ وقوع میں آیا ہے اور نیز اس اعلیٰ نشان سے روز کے جھگڑے طے ہو جائیں گے۔اور اگر یہ حالت ہے کہ آریہ قوم کے معزز لالہ گنگا بشن کو اس رائے میں کہ یہ عاجز لیکھرام کا قاتل ہے۔جھوٹا سمجھتے ہیں۔اسی واسطے اس کی ہمدردی نہیں کر سکتے اور جانتے ہیں کہ یہ شخص جھوٹا ہے۔آخر اس پر خدا کا عذاب آئے گا۔ہم دس ہزار روپیہ کیوں ضائع کریں۔تو ایسے جھوٹے کو اپنے مقابلہ پر بلا نا جس کی قوم ہی اُس کو بد چلن اور دروغ گو خیال کرے ایک نا اہل کو عزت دینا ہے۔غرض اگر آریہ صاحبوں کے معزز لوگوں کی میری نسبت یہ رائے نہیں ہے کہ میں لیکھرام کا قاتل ہوں تو اس جھگڑے میں پڑنا ضروری نہیں۔کیونکہ اگر شریف اور معزز آریہ مجھ کو اس جرم سے بری سمجھتے ہیں اور ایسی تہمت لگانے والے کو جھوٹا اور کا ذب خیال کرتے ہیں تو پھر مجھے کون سی ضرورت ہے کہ ایسے شخص کے مقابلہ کی فکر کروں جس کو پہلے سے اس کی قوم ہی جھوٹا تسلیم کر چکی ہے۔میں نے لالہ گنگا بشن کو دس ہزار روپیہ دینا اس خیال سے منظور کیا تھا کہ معزز آریہ اندرونی طور پر اس کے ساتھ ہوں گے۔اور وہ بطور وکیل ہوگا۔غرض اب شرائط ہرگز کم و بیش نہیں کی جائیں گی۔لالہ گنگا بشن یاد رکھیں کہ