حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 51 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 51

حیات احمد ۵۱ جلد چهارم گیا۔وہاں کیا تھا۔البتہ کچھ خطوط نکلے جو ڈاک میں ڈالنے کے تھے یا ڈاک کے آئے ہوئے قابل ہم تھے۔حضرت حافظ صاحب ڈاک خانہ سے سارے سلسلہ کے افراد کی ڈاک لے کر آیا کرتے تھے۔اور خطوط ڈالنے کے لئے لے جاتے تھے۔حضرت حافظ صاحب حضرت حکیم الامت کے رضاعی بھائی تھے۔اور نہایت مخلص اور ہمدرد انسان تھے۔قادیان آبیٹھے تھے اور سلسلہ کی یہ خدمت رضا کارانہ کرتے تھے۔ان کی ایک صاحبزادی تھی جو حضرت ملک نورالدین صاحب کو بیاہی گئی تھی اور دو بیٹے عبدالحق اور عبدالعزیز تھے۔عبدالحق صاحب تو شاید ڈاکٹر ہو گئے تھے۔سازش قتل کے الزام کا آخری آسمانی فیصلہ جیسا کہ اوپر بیان ہوا ہے ہندو اور آریہ اخبارات نے آپ پر منصوبہ قتل کے سازش کا الزام لگائے۔چاہیے تو یہ تھا کہ اگر اس کا کوئی واقعاتی ثبوت فریق مخالف کے ہاتھ میں ہوتا تو وہ عدالت میں اقدام قتل اور سازش کا مقدمہ دائر کرتے۔مگر ایسا نہیں کیا گیا۔اور حکومت نے آپ کی خانہ تلاشی لینے کے بعد کسی قسم کا نوٹس نہ لے کر ثابت کر دیا کہ یہ الزام غلط ہے۔مگر حضرت اقدس نے اپنی صداقت کے لئے آسمانی فیصلہ کا چیلنج دیا۔جب اخبارات میں سازش قتل کا الزام لگایا گیا تو آپ نے اس کے جواب میں ”لیکھر ام بقیہ حاشیہ۔ماموں جالندھر اور ہوشیار پور کے درمیان یکہ میں آیا جایا کرتا تھا۔اور وہ حضرت صاحب سے کچھ انعام کا بھی خواہاں تھا اور چونکہ محمدی بیگم کے نکاح کا عقدہ زیادہ تر اسی شخص کے ہاتھ میں تھا۔اس لئے حضرت صاحب نے اس سے کچھ انعام کا وعدہ بھی کرلیا تھا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ شخص اس معاملہ میں بدنیت تھا اور حضرت صاحب سے فقط کچھ روپیہ اڑانا چاہتا تھا کیونکہ بعد میں یہی شخص اور اس کے دوسرے ساتھی اس لڑکی کے دوسری جگہ بیا ہے جانے کا موجب ہوئے۔مگر مجھ کو والدہ صاحب سے معلوم ہوا ہے کہ حضرت صاحب نے بھی اس شخص کو روپیہ دینے کے متعلق بعض حکیمانہ احتیاطیں ملحوظ رکھی ہوئی تھیں۔والدہ صاحبہ نے یہ بھی بیان کیا کہ اس کے ساتھ محمدی بیگم کا بڑا بھائی بھی شریک تھا۔“ (سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ ۱۷۷ روایت نمبر ۱۷۹ مطبوعہ ۲۰۰۸ء)