حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 50 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 50

حیات احمد جلد چهارم (یاد رہے کہ ایک زمانہ میں مرزا امام الدین صاحب نے اس معاملہ کے متعلق حضرت اقدس سے گفتگوئے مصالحت کی تھی اور مرزا امام الدین صاحب نے بطور ایک واسطہ کے کام کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا اس موقعہ پر حضرت اقدس جالندھر کے مقام پر کچھ عرصہ تک ٹھہرے رہے تھے) مرزا امام الدین صاحب کے جب وہ خط پڑھے گئے تو وہ گھبرا کر جھٹ وہاں سے چلا آیا اور خود ذلیل ہوکر رہ گیا۔تلاشی بہت دیر تک ہوتی رہی اور میاں محمد بخش صاحب اس وقت بڑی گرم جوشی سے مصروف کار تھے۔یہاں تک کہ انہوں نے بعض ٹرنکوں کی چابی کا بھی انتظار نہ کیا قفل توڑ ڈالے۔لیکن اس تلاشی میں کچھ برآمد نہ ہوا تمام گھر کا کونہ کونہ دیکھا گیا یہاں تک کہ سردخانہ اور مطبع وغیرہ بھی۔حضرت حکیم الامت کی تلاشی اسی سلسلہ میں حضرت حکیم الامت کے گھر کی بھی تلاشی ہوئی۔یہ تلاشی کسی قیاس یا اطلاع کی بنا پر صرف حضرت حافظ غلام محی الدین کے رہائشی کمرہ تک ہی محدود رہی۔اس مکان کی دیواری الماریاں اور ان کی جلد سازی کے سامان یہاں تک کہ پتھر کی سل کو الٹ پلٹ کر دیکھا حاشیہ۔حضرت مولوی عبداللہ صاحب سنوری ان ایام میں حضرت کے ساتھ تھے۔انہوں نے حسب ذیل روایت بیان کی ہے جو سیرۃ المہدی جلد اول ایڈیشن دوم کے صفحہ ۱۹۰ پر درج ہے۔میں ذاتی طور پر اس واقعہ سے واقف تھا۔اس سلسلہ میں حضرت منشی حبیب الرحمن صاحب کا ذاتی یکہ بھی خدمت اقدس میں دیا گیا تھا۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیم۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ سنوری نے کہ ایک دفعہ حضرت صاحب جالندھر جا کر قریباً ایک ماہ ٹھہرے تھے اور ان دنوں میں محمدی بیگم کے ایک حقیقی ماموں نے محمدی بیگم کا حضرت صاحب سے رشتہ کرا دینے کی کوشش کی تھی۔مگر کامیاب نہیں ہوا۔یہ اُن دنوں کی بات ہے کہ جب محمدی بیگم کا والد مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری زندہ تھا اور ابھی محمدی بیگم کا مرزا سلطان محمد سے رشتہ نہیں ہوا تھا۔محمدی بیگم کا یہ