حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 52 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 52

حیات احمد ۵۲ جلد چهارم کی موت کے متعلق آریوں کے خیالات“ کے عنوان سے ۱۵ مارچ ۱۸۹۷ء کو ایک مفصل اشتہار شائع کیا اور سازش کے الزام کا معقولی اور مؤثر جواب دیا اور اس کے بعد آپ نے مناسب سمجھا کہ اگر اب بھی ایسے لوگ ہوں جو الزام سازش پر اصرار کریں تو وہ ایک آسمانی فیصلہ کے ذریعہ آزمائش کریں۔چنانچہ آپ نے تحریر فرمایا۔اور اگر اب بھی کسی شک کرنے والے کا شک دور نہیں ہوسکتا اور مجھے اس قتل کی سازش میں شریک سمجھتا ہے جیسا کہ ہندو اخباروں نے ظاہر کیا ہے تو میں ایک نیک صلاح دیتا ہوں کہ جس سے یہ سارا قصہ فیصلہ ہو جائے اور وہ یہ ہے کہ ایسا شخص میرے سامنے قسم کھاوے جس کے الفاظ یہ ہوں کہ یہ شخص سازش قتل میں شریک یا اس کے حکم سے واقعہ قتل ہوا ہے۔پس اگر یہ میچ نہیں ہے تو اے قادر خدا! ایک برس کے اندر مجھ پر وہ عذاب نازل کر جو ہیبت ناک ہو مگر کسی انسان کے ہاتھوں سے نہ ہو۔اور نہ انسان کے منصوبوں کا اس میں کچھ دخل متصور ہو سکے۔پس اگر یہ شخص ایک برس تک میری بددعا سے بچ گیا تو میں مجرم ہوں۔اور اُس سزا کے لائق کہ ایک قاتل کے لئے ہونی چاہیے۔اب اگر کوئی بہادر کلیجہ والا آریہ ہے جو اس طور سے تمام دنیا کو شبہات سے چھڑا دے تو اس طریق کو اختیار کرے یہ طریق نہایت سادہ اور راستی کا فیصلہ ہے شاید اس طریق سے ہمارے مخالف مولویوں کو بھی فائدہ پہنچے۔میں نے سچے دل سے یہ لکھا ہے مگر یادر ہے کہ ایسی آزمائش کرنے والا خود قادیان میں آوے۔اس کا کرایہ میرے ذمہ ہوگا۔جانبین کی تحریرات چھپ جائیں گی۔اگر خدا نے اس کو ایسے عذاب سے ہلاک نہ کیا جس میں انسان کے ہاتھوں کی آمیزش نہ ہو تو میں کا ذب ٹھہروں گا۔اور تمام دنیا گواہ رہے کہ اس صورت میں میں اسی سزا کے لائق ٹھہروں گا جو مجرم قتل کو دینی چاہیے۔میں اس جگہ سے دوسرے مقام نہیں جاسکتا۔مقابلہ کرنے