حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 561
حیات احمد ۵۶۱ جلد چهارم بعد میں معلوم ہوا کہ میجر ڈگلس نے پہلے سے حکم دیا ہوا تھا کہ جونہی مرزا صاحب آئیں تو اُن کو میرا سلام دو اور لے آؤ۔چنانچہ حضرت اقدس کمرہ عدالت میں چلے گئے۔آپ کے ہمراہ مرحوم مرزا ایوب بیگ اور مرحوم حکیم فضل الدین صاحب اور مولوی فضل الدین صاحب وکیل اور کچھ اور لوگ تھے۔چونکہ کمرہ مختصر تھا صرف مرزا ایوب بیگ مرحوم اور حضرت حکیم فضل الدین صاحب اندر رہ گئے۔بقیہ حاشیہ۔جناب مرزا صاحب اپنی کرسی سے اٹھے اور مولوی فضل الدین صاحب کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور فرمایا کہ ” میری طرف سے اس قسم کا سوال کرنے کی نہ تو ہدایت ہے اور نہ اجازت ہے۔آپ اپنی ذمہ داری پر به اجازت عدالت اگر پوچھنا چاہیں تو آپ کو اختیار ہے۔قدرتی طور پر صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر کو دلچپسی ہوئی اور انہوں نے مجھ سے دریافت کیا کہ کیا اس سوال کی بابت تم کو کچھ حال معلوم ہے۔میں نے جواب نفی میں دیا۔مگر کہا کہ اگر آپ معلوم کرنا چاہتے ہیں تو جب آپ لنچ کے لئے اٹھیں گے تو میں معلوم کرنے کی کوشش کروں گا۔چنانچہ جب نماز ظہر کا وقت ہوا تو صاحب ڈپٹی کمشنر لنچ کے لئے اٹھ گئے تو میں نے شیخ رحمت اللہ صاحب کی معرفت حضرت مرزا صاحب سے دریافت کروایا کہ ماجرا کیا ہے۔حضرت مرزا صاحب نے نہایت افسوس کے ساتھ شیخ رحمت اللہ صاحب کو بتایا کہ مولوی محمد حسین صاحب کے والد کا ایک خط ہمارے قبضہ میں ہے جس میں کچھ نکاح کے حالات اور مولوی محمد حسین صاحب کی بدسلوکیوں کے قصے ہیں جو نہایت قابلِ اعتراض ہیں۔مگر ساتھ ہی حضرت مرزا صاحب نے فرمایا کہ ہم ہرگز نہیں چاہتے کہ اس قصہ کا ذکر مسل پر لایا جاوے یا ڈپٹی کمشنر صاحب اس سے متاثر ہو کر کوئی رائے قائم کریں۔میں نے شیخ رحمت اللہ صاحب سے سُن کر لنچ والے کمرہ میں جا کر ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک کے روبرو جو ڈپٹی کمشنر صاحب کے ساتھ لنچ میں شامل تھے ڈپٹی کمشنر صاحب بہادر کو یہ ماجرا سنا دیا۔اس پر خود ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک بہت ہنسے صاحب ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ یہ امر تو ہمارے اختیار میں ہے کہ ہم اس ماجرے کو قلمبند نہ کریں مگر یہ بات ہمارے اختیار سے باہر ہے کہ ہمارے دل پر اثر نہ ہو لنچ کے بعد جب مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی دوبارہ جرح کے لئے عدالت میں پیش ہوئے تو مولوی فضل الدین صاحب وکیل نے ان سے سوال کیا کہ آج آپ ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک صاحب کی کوٹھی پر اُن کے پاس بیٹھے ہوئے تھے؟ تو انہوں نے صاف انکار کر دیا۔جس پر بے ساختہ میں چونک پڑا۔ڈپٹی کمشنر صاحب نے مجھ سے اس چونکنے کی وجہ پوچھی تو میں نے ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک کی طرف اشارہ کیا۔صاحب بہادر نے ڈاکٹر کلارک سے دریافت کیا تو انہوں نے صاف اقرار کیا کہ ہاں میرے پاس بیٹھے ہوئے اس مقدمہ کی گفتگوسن