حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 560 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 560

حیات احمد جلد چهارم کوئی آدھا گھنٹہ پیشتر مقام عدالت کو مع جماعت کے روانہ ہوئے۔ڈپٹی کمشنر گورداسپور ڈاک بنگلہ میں قیام فرما تھے اور اُسی جگہ آپ نے عدالت کا کام شروع کیا۔جب حضرت ڈاک بنگلہ کے احاطہ میں داخل ہوئے اور ابھی تشریف فرما نہ ہوئے تھے کہ چپراسی دوڑتا ہوا آیا اور اس نے حضرت کو سلام کیا اور عرض کیا کہ صاحب آپ کو سلام دیتے ہیں۔ہم لوگوں نے صاحب کے سلام کو ایک مبارک فال یقین کیا اور ساتھ ہی اُس نے کہا کہ آپ کے لئے کرسی رکھی ہوئی ہے بقیہ حاشیہ۔ان کی سادہ ہیئت یعنی ڈھیلی ڈھالی سی بندھی ہوئی پگڑی اور کرتے کا گریبان کھلا ہوا اور شہادت ادا کرنے کا طریق نہایت صاف اور سیدھا سادہ ایسا مؤثر تھا کہ خود صاحب ڈپٹی کمشنر بہت متاثر ہوئے اور کہا کہ خدا کی قسم اگر یہ شخص کہے کہ میں مسیح موعود ہوں تو میں پہلا شخص ہوں گا جو اس پر پورا پورا غور کرنے کے لئے تیار ہوں گا۔مولوی نورالدین صاحب نے عدالت سے دریافت کیا کہ ” مجھے باہر جانے کی اجازت ہے یا اسی جگہ کمرہ کے اندر رہوں۔ڈگلس صاحب ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ”مولوی صاحب آپ کو اجازت ہے جہاں آپ کا جی چاہے جائیں۔ان کے بعد شیخ رحمت اللہ صاحب کی شہادت ہوئی۔اور ان کے بعد مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی شہادت کے لئے کمرہ عدالت میں داخل ہوئے اور دائیں بائیں دیکھا تو کوئی کرسی فالتو پڑی ہوئی نظر نہ آئی۔مولوی صاحب کے منہ سے جو پہلا لفظ نکلا وہ یہ تھا کہ حضور۔کرسی۔“ ڈپٹی کمشنر صاحب نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ " کیا مولوی صاحب کو حکام کے سامنے کرسی ملتی ہے۔میں نے کرسی نشینوں کی فہرست صاحب کے سامنے پیش کر دی اور کہا کہ اس میں مولوی محمد حسین صاحب یا اُن کے والد بزرگوار کا نام تو درج نہیں لیکن جب کبھی حکام سے ملنے کا اتفاق ہوتا ہے تو بوجہ عالم دین یا ایک جماعت کے لیڈر ہونے کے وہ انہیں کرسی دے دیا کرتے ہیں۔اس پر صاحب ڈپٹی کمشنر نے مولوی صاحب کو کہا کہ آپ کوئی سرکاری طور پر کرسی نشین نہیں ہیں۔آپ سیدھے کھڑے ہو جائیں اور شہادت دیں۔تب مولوی صاحب نے کہا کہ ”میں جب کبھی لاٹ صاحب کے حضور میں جاتا ہوں تو مجھے کرسی پر بٹھایا جاتا ہے میں اہل حدیث کا سرغنہ ہوں۔‘‘ تب صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر نے گرم الفاظ میں ڈانٹا اور کہا کہ ”نج کے طور پر اگر لاٹ صاحب نے تم کو کرسی پر بٹھایا تو اس کے یہ معنے نہیں کہ عدالت میں بھی تمہیں کرسی دی جائے۔خیر شہادت شروع ہوئی تو مولوی صاحب نے جس قدر الزامات کسی شخص کی نسبت لگائے جاسکتے ہیں مرزا صاحب پر لگائے۔لیکن جب مولوی فضل الدین صاحب وکیل حضرت مرزا صاحب نے جرح میں مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب سے معافی مانگ کر اس قسم کا سوال کیا جس سے ان کی شرافت یا کریکٹر پر دھبہ لگتا تھا تو سب حاضرین نے متعجبانہ طور پر دیکھا کہ