حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 515
حیات احمد ۵۱۵ جلد چهارم اسی سلسلہ تبلیغ میں آپ نے تحفہ قیصریہ نام ایک رسالہ ۲۵ مئی ۱۸۹۷ء کو شائع کیا اور ۱۹ارجون ۱۸۹۷ء کو ڈائمنڈ جوبلی کی تقریب پر ایک جلسہ منعقد فرمایا جس میں ملکہ معظمہ کے لئے دعا کی۔ایک غور طلب امر یہ امر بجز اللہ تعالیٰ کے مامورین کے کسی دوسرے کے قبضہ میں نہیں آتا کہ وہ سلاطین وقت کو دین حق کی تبلیغ کریں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے وقت کے بادشاہ نمرود پر اتمام حجت کیا۔حضرت موسیٰ فرعون کو رب العالمین کی دعوت دی اور خود حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بقیہ حاشیہ۔امید کہ بارگاہِ اقدس سے بھی آپ کو راضی نامہ دینے کے لئے تحریک فرمائی جائے کہ فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْما - قانون کا بھی یہی اصول ہے کہ جو جرم عمدا و جان بوجھ کر نہ کیا جائے وہ قابل راضی نامہ و معافی کے ہوتا ہے۔فَاعْفُوا وَاصْفَحُوْا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ میں ہوں حضور کا مجرم ( دستخط بزرگ) راولپنڈی۔۲۹/اکتوبر ۹۷ ( کتاب البریہ، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۱۱۳ تا ۱۷ تبلیغ رسالت جلد ۲ صفحہ ۱۷۶ تا ۱۷۸۔مجموعہ اشتہارات جلد ۲ صفحہ ۱۷۶ تا ۷۹ اطبع بار دوم ) بقیہ حاشیہ۔آئی اپنے ان کانوں سے سننا اور پبلک پر ظاہر کرنا پڑا ہے جو کیفیت جناب مولوی حافظ عبدالرحمن صاحب الہندی نزیل قسطنطنیہ نے ہمیں معلوم کرائی ہے اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ حسین پک کامی نے بڑی بے شرمی کے ساتھ مظلومانِ کریٹ کے روپیہ کو بغیر ڈکار لینے کے ہضم کر لیا اور کارکن کمیٹی چندہ نے بڑی فراست اور عرق ریزی کے ساتھ ان سے روپیہ اگلوایا۔مگر یہ دریافت نہیں ہوا کہ وائس قونصل مذکور پر عدالت عثمانیہ میں کوئی نالش کی گئی یا نہیں۔ہماری رائے میں ایسے خائن کو عدالتانہ کارروائی کے ذریعہ عبرت انگیز سزا دینی چاہیے۔بہر حال ہم امید کرتے ہیں کہ یہی ایک کیس غبن کا ہو گا جو اس چندہ کے متعلق وقوع میں آیا ہو۔اور جو رقوم چندہ جناب ملا عبدالقیوم صاحب اول تعلقہ دار لنگسگور اور جناب عبدالعزیز بادشاہ صاحب ٹرکش قونصل مدراس کی معرفت حیدر آباد اور مدراس سے روانہ ہوئیں وہ بلا خیانت قسطنطنیہ کو کمیٹی چندہ کے پاس برابر پہنچ گئی ہوں گی۔“ طه: ۱۱۶