حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 516
حیات احمد ۵۱۶ جلد چهارم پنے عہد سعادت کے سلسلہ میں قیصر روم۔کسری ایران۔بادشاہ مصر۔اور شاہ جیش اور اپنے گردو نواح کے امرائے عظام کو دعوت اسلام دی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسی سنت نبوی پر عمل کرتے ہوئے مختلف ممالک کے بادشاہوں اور ہندوستان کے رؤسا پر اتمام حجت کیا۔اسی سلسلہ میں جیسا کہ میں پہلے ذکر کر آیا ہوں آپ نے ملکہ معظمہ کو تبلیغ اسلام کی اور عجیب بات یہ ہے اور تعجب ہے کہ آپ کے ان دشمنوں نے کبھی اس پر غور نہیں کیا جو آپ پر حکومت انگریزی کی خوشامد کا الزام لگاتے ہوئے نہیں تھکتے کہ کیا وہ شخص خوشامد کرتا ہے جو ملکہ معظمہ اور اس کے اعلیٰ عہدہ داروں کو یسوع کے متعلق اُن کا مردہ خدا کہتا ہے اور انہیں کے عقیدہ کے موافق ملعون کہہ کر " قسطنطنیہ کی چٹھی" بقیہ حاشیہ۔ہندوستان کے مسلمانوں نے جو گزشتہ دو سالوں میں مہاجرین کریٹ اور مجروحین عسا کر حرب یونان کے واسطے چندہ فراہم کر کے قونصل ہائے دولت علیہ ترکیہ مقیم ہند کو دیا تھا معلوم ہوتا ہے کہ ہر زر چندہ تمام و کمال قسطنطنیہ میں نہیں پہنچا اور اس امر کے باور کرنے کی یہ وجہ ہوئی ہے کہ حسین پک کامی وائس قونصل مقیم کرانچی کو جو ایک ہزار چھ سو روپیہ کے قریب مولوی انشاء اللہ صاحب ایڈیٹر اخبار وکیل امرت سر اور مولوی محبوب عالم صاحب ایڈیٹر پیسہ اخبار لا ہور نے مختلف مقامات سے وصول کر کے بھیجا تھا وہ سب غبن کر گیا ایک کوڑی تک قسطنطنیہ میں نہیں پہنچائی مگر خدا کا شکر ہے کہ سلیم پاشا ملحمہ کارکن کمیٹی چندہ کو جب خبر پہنچی تو اُس نے بڑی جانفشانی کے ساتھ اس روپیہ کے اگلوانے کی کوشش کی اور اس کی اراضی مملوکہ کو نیلام کرا کر وصولی رقم کا انتظام کیا اور باب عالی میں غبن کی خبر بھجوا کر نوکوی سے موقوف کرایا اس لئے ہندوستان کے جملہ اصحاب جرائد کی خدمت میں التماس ہے کہ وہ اس اعلان کو قومی خدمت سمجھ کر چار مرتبہ متواتر اپنے اخبارات میں مشتہر فرما ئیں اور جس وقت ان کو معلوم ہو کہ فلاں شخص کی معرفت اس قدر روپیہ بھیجا گیا تو اس کو اپنے جریدہ میں مشتہر کروائیں اور نام معہ عنوان کے ایسا مفصل لکھیں بشرط ضرورت اُس سے خط و کتابت ہو سکے اور ایک پر چہ اُس جریدہ کا خاکسار کے پاس بمقام قاہرہ اس پتہ سے روانہ فرماویں۔حافظ عبدالرحمن الہندی الامرتسری سکہ جدید - وکاله صالح آفندی قاہرہ (ملک مصر )۔“ تبلیغ رسالت جلد ۸ صفحه ۹۸ تا ۱۰۰ مجموعه اشتہارات جلد ۲ صفحه ۳۳۴ ، ۳۵ ۳ طبع بار دوم )