حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 492
حیات احمد ۴۹۲ جلد چهارم معترضین کے حملوں کا دفاع اور عبادت اور خانہ داری کے اہتمام کے علاوہ تصانیف کا روز افزوں سلسلہ ۶ / مارچ ۱۸۹۷ء کے بعد جبکہ پنڈت لیکھرام صاحب کے قتل کا واقعہ ہوا آپ کی مصروفیت مختلف قسم کے افکار کو لے کر آئی مگر آپ کے معمولات میں وہ حارج نہ ہوسکی۔عرصہ دراز سے سراج منیر کی اشاعت کا آپ اعلان کرتے آئے تھے سُرمہ چشم آریہ کی اشاعت کے بعد تو فوراً ہی اسے شائع کرنے کا عزم تھا۔مگر اللہ تعالیٰ کی نہاں در نہاں مشیت نے اسے اس وقت تک روک بقیہ حاشیہ۔میں اس سے بے خبر نہیں کہ ہمیشہ ہمارے دوست اُن اعانتوں میں مشغول ہیں اور میں یقین رکھتا ہوں کہ خدا اُن کے دلوں کو روز بروز زیادہ قوت دے گا۔اور دن بدن اُن کی ایمانی طاقت کو بڑھائے گا۔یہاں تک کہ وہ اپنی پہلی حالتوں سے بہت آگے نکل جائیں گے۔ایک عرصہ ہوا مجھے الہام ہوا تھا وَسْعْ مَكَانَكَ يَأْتُونَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ۔یعنی اپنے مکان کو وسیع کر کہ لوگ دور دور کی زمین سے تیرے پاس آئیں گے۔سو پشاور سے مدراس تک تو میں نے اس پیشگوئی کو پوری ہوتے دیکھ لیا۔مگر اس کے بعد دوبارہ پھر یہی الہام ہوا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اب وہ پیشگوئی پھر زیادہ قوت اور کثرت کے ساتھ پوری ہوگی۔وَاللَّهُ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ لَا مَانِعَ لِمَا أَرَادَ اور لازم ہے کہ ہر ایک صاحب اپنی موجودہ حالت کے لحاظ سے اس چندہ میں شریک ہوں اور ان کی نگاہ میں کسی رقم کا کم اور حقیر ہونا ان کو ثواب سے نہ رو کے کہ خدا تعالی کی دلوں اور حالتوں پر نظر ہے نہ محض چندہ کی کثرت اور قلت پر اور چونکہ عمارت شروع ہونے کو ہے اور ہماری تجربہ کار جماعت نے کل اسٹیمیٹ اس کا دو ہزار روپیہ قرار دیا ہے۔لہذا جہاں تک ممکن ہو یہ چندہ جلد آنا چاہیے اور آخر پر یہ سب رقوم چھاپ کر شائع کردی جائیں گی۔بجز ایسے کسی صاحب کے چندہ کے جو اخفا چاہتے ہوں۔اور اب تک رقوم چندہ جو ہمیں وصول ہوئی ہیں۔یہ تفصیل ذیل ہیں۔نام (۱) منشی عبدالرحمن صاحب اہلمد محکمہ جرنیلی ریاست کپورتھلہ (۲) مولوی سید محمد احسن صاحب امروہوی (۳) عرب حاجی مہدی صاحب بغداد نزیل مدراس تعد ا در قم للحمر للدر