حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 491
حیات احمد ۴۹۱ جلد چهارم تھا اور ضرور پیش آئی کہ مہمان خانہ کی توسیع کی جائے اس کے لئے آپ نے ۱۷ فروری کو ایک مختصر اعلان شائع کیا پورا اشتہار حاشیہ میں درج ہے۔جن بزرگوں کو یہ سعادت نصیب ہوئی ان کے اسماء گرامی خود حضرت نے درج کر دیے ہیں۔( رَحِمَهُمُ اللَّهُ تَعَالَى ) سراج منیر کی اشاعت حضرت اقدس کی عملی قوت کا اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایک طرف مہمانوں کی کثرت اور ان کی مہمان نوازی ہی نہیں ان کی تعلیم و تربیت کا انتظام۔آنے والے خطوط کے جوابات۔بقیہ حاشیہ۔وائیں ہیئت کذائی کہ خسوف کسوف در بقیہ حاشیہ۔اور یہ ہیئت کذائی کہ رمضان میں خسوف و رمضان جمع می شود و یک مدعی مهدویت نیز در آن کسوف جمع ہو جائے اور ایک مدعی مہدویت اس وقت وقت موجود باشد۔ایں اتفاق پیش از من کسے را میسر موجود ہو۔یہ ایک ایسا اتفاق ہے کہ حضرت آدم سے لے کر نشده از آدم تا وقت من مضمون حدیث ہمیں میرے زمانہ تک مجھ سے پہلے کسی کو میسر نہیں ہوا۔مضمونِ۔قدر است۔بحمد اللہ کہ مصداق آن هستم و بریں چیزے حدیث اسی قدر ہے۔بحمد اللہ کہ اس کا مصداق میں ہوں۔افزودن خیانت و دجل است۔اس کے علاوہ اس پر کسی چیز کا بڑھانا خیانت اور دھوکا ہے۔وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى المشتـ حاشیہ۔میرزا غلام احمد قادیانی ( یکم فروری ۱۸۹۷ء) المشتـ وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى ـهـ میرزا غلام احمد قادیانی ( یکم فروری ۱۸۹۷ء) تبلیغ رسالت جلد ۶ صفحه ۱۰۲ تا ۱۰۸) (ترجمه از مجموعہ اشتہارات جلد۲ صفحه ۲۵ تا ۳۲ طبع بار دوم ) مجموعہ اشتہارات جلد ۲ صفحه ۱۸ تا ۲۳ طبع بار دوم ) جماعت مخلصین کی اطلاع کے لئے چونکہ ہماری اس جماعت کے مشورہ اور صلاح سے جو قادیان میں ان دنوں میں آئی یہ ایک امر ضروری معلوم ہوا ہے کہ مہمانوں کے لئے ایک اور مکان بنایا جاوے اور ایک کنواں بھی مہمان خانہ کے پاس طیار کیا جاوے اور نیز انہیں کی صوابدید سے اس کام کے انجام دینے کے لئے چندہ کا فراہم کرنا قرین مصلحت قرار پایا ہے۔لہذا اسی غرض سے یہ اشتہار شائع کیا جاتا ہے کہ تمام وہ احباب جن کو یہ اشتہار پہنچ جاوے بدل و جان اس کام میں شریک ہوں۔