حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 484 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 484

حیات احمد ۴۸۴ جلد چهارم جائے گا۔حضرت اقدس نے اس طریق کو خلاف قرآن و حدیث قرار دیا مگر چہل روزہ نشان کے بقیہ حاشیہ۔کہ برائے مرسلین و مبعوثین عادت الہی بقیہ حاشیہ کہ مرسلین اور مبعوثین کے ساتھ اللہ کا جو دستور ظاہر با ظہار آن رفتہ۔اکنوں اگر منکرے بزعم خود ایں ہو چکا ہے اب اگر کوئی منکر اپنے خیال میں یہ دعوی قــال دعوی را خلاف قَالَ اللهُ وَ قَالَ الرَّسُوْلُ می انگاردو اللہ اور قَالَ الرَّسُول کے خلاف سمجھتا ہے اور گمان کرتا گمان می کند که خود عیسی بن مریم از آسمان نازل خواہد ہے کہ خود عیسی بن مریم آسمان سے نازل ہوں گے وہ علم قرآن شدا واز علم قرآن وحدیث بے بہرہ است وحدیث سے بے بہرہ ہے لی۔و اگر از اصرار خود با زنماند پس ایس بار ثبوت برگردن اگر کوئی اپنے اصرار سے باز نہیں آتا تو یہ بارثبوت اس اوست که از قرآن شریف واحادیث نبویہ حیات عیسی کی گردن پر ہے کہ قرآن شریف اور احادیث نبویہ سے علیہ السلام ثابت کند، لیکن ہر عاقلے میداند که حیات عیسی علیہ السلام کی زندگی ثابت کرے۔لیکن ہر عظمند عیسی علیه السلام را ثابت کردن امریست محال و جانتا ہے کہ حیات عیسی علیہ السلام کو ثابت کرنا ایک محال اور باطل خیال ہے۔اس لئے کہ قرآن شریف خیالیست باطل۔چرا که قرآن شریف بکمال وضاحت نے بڑی وضاحت سے یہ فیصلہ فرما دیا ہے کہ عیسی شَانُه ایں فیصله کرده است که عیسی وفات یافت۔وفات پاچکے ہیں اور ایسا مومن جو اپنے دل میں رب ومو منے را که عظمت کلام رب جلیل در دل خود می جلیل کے کلام کی عظمت رکھتا ہے اس کے لئے یہ آیت دارد این آیت کافی است کہ اللہ جل شانه می فرماید کافی ہے۔اللہ جل شانہ فرماتا ہے فَلَمَّا میں که فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنتَ اَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ تَوَفَّيْتَنِى كُنتَ أنتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ اب اے اکنوں اے شنوندہ ایس آیت بغور بنگر آیا می توانی اس آیت کے سننے والے غور سے دیکھ کہ کیا تو طاقت رکھتا که بجز وفات معنی دیگر ازیں آیت برآری ہے کہ اس آیت سے وفات کے علاوہ کوئی دیگر معنی نکال سکے۔له یاد باید داشت که مذهب اکابر وائمہ ایس امت ہمیں لے ترجمہ۔یاد رکھنا چاہیے کہ اکابر کا مذہب اور اس امت است که عیسی علیه السلام وفات یافته است چنانچہ امام کے ائمہ کا مذہب یہی ہے کہ عیسی علیہ السلام وفات پاچکے ابن حزم رحمۃ اللہ علیہ و امام مالک رضی اللہ عنہ بداں ہیں۔چنانچہ امام ابن حزم رحمتہ اللہ علیہ اور امام مالک رضی جلالت شان قائل وفات عیسی علیہ السلام هستند و نہ ایں اللہ عنہ اپنی جلالتِ شان کے باوجود عیسی علیہ السلام کی ہر دو بلکہ امام بخاری و دیگر اکثر اکابر سوئے عقیدہ وفات کے قائل ہیں۔نہ صرف یہ دوامام بلکہ امام بخاری اور دیگر اکثر اکابر وفات کے عقیدے کی طرف گئے ہیں۔منہ وفات رفته اند منه المائدة: ۱۱۸