حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 485 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 485

حیات احمد ۴۸۵ جلد چهارم ظہور پر جو اعلان آپ نے کیا آپ نے بطریق تنزل شیخ کو کہا کہ اب مینار سے گر کر دکھا دو۔بقیہ حاشیہ۔ہرگز ممکن نیست بلکہ ہر مُنصفی و محققے کہ بقیہ حاشیہ۔یہ ہرگز ممکن نہیں بلکہ ہر منصف اور محقق کہ جو بریں آیت کریمہ غور خواهد کرد و در منطوق و مفهوم آن آیت کریمہ پر غور کرے گا وہ (قرآن کے ) منطوق و تأملے خواہد نمود او ازیں جا ببداہت نظر وفات عیسی مفہوم میں غور کرے گا وہ بداہت نظر کے ساتھ عیسی علیہ السلام خواہد فهمید و بقطع و یقین برموت شاں ایمان علیہ السلام کی وفات ہی سمجھے گا اور قطعی ویقینی طور پر ان کی خواهد آورد و بعد زین بصیرت انکار موت را نہ صرف وفات پر ہی ایمان لائے گا۔اور حضرت عیسی کی وفات پر ضلالت بلکہ الحاد و زندقہ خواہد شمرد۔ہاں ممکن است که بصیرت حاصل ہو جانے کے بعد موت عیسی“ سے انکارکو نہ صرف ضلالت بلکہ الحاد اور زند قیت شمار کرے گا۔ممکن کسے را بوجه نادانی خود در معنی لفظ تو فی ترددے پیدا ہے کسی کو اپنی نادانی کے سبب لفظ توفی کے معنی میں تردد شود۔لیکن چوں سوئے حدیث و آثار صحابہ رجوع خواہد پیدا ہو جائے۔لیکن جب حدیث کی طرف اور صحابہ کی کرد آں ہمہ تر قد کالعدم خواهد شد چرا که او آنجا در روایات کی طرف رجوع کرے گا تو اس کا یہ سب تردد تفسیر این آیت بجز امانت یعنی میرانیدن معنے دیگر نخواهد کالعدم ہو جائے گا۔کیا تو نہیں دیکھتا صحیح بخاری میں یافت - آیا نمی بینی که در صحیح بخاری از عبدالله بن عباس عبدالله بن عباس سے مروی ہے مُتَوَفِّيكَ - مُمِيْتُكَ“ است مُتَوَفِّيْكَ مُمِيْتُكَ یعنی معنی مُتَوَفِّيْكَ این یعنی مُتَوَفِّيْكَ کے یہ معنے ہیں۔میں تجھے مارنے والا است که من ترا میراننده ام - و ما هر چند سیر کتب ہوں۔اور ہم نے ہر چند کہ کتب حدیث کا سیر حاصل حدیث کردیم و تمام آثار و اقوال صحابہ را دیدیم و مطالعہ کیا ہے اور تمام روایات و اقوال صحابہ کو دیکھا اور خود خواندیم و شنیدیم اما هیچ جا نیافتیم که در شرح ایس آیت ہم نے پڑھا ہے اور (لوگوں سے) سنا بھی ہے لیکن کسی بجز معنے امانت چیزے دیگر در حدیثے یا اثرے یا قولے جگہ نہیں پایا کہ اس کی شرح میں سوائے امائت کے معنی آمده باشد و ما بدعوی میگوئیم که هر چه از صحابه و رسول کے کوئی دوسری چیز کسی حدیث یا کسی روایت یا کسی قول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم در معنی توفی در آیت موصوفہ میں آئی ہو اور ہم دعوی سے کہتے ہیں کہ جو کچھ صحابہ کرام اور رسول اللہ صلہ اللہ علیہ وسلم سے تَوَفَّی کے معنی میں آیت ثابت شده است آن ہمیں معنی میرانیدن است نه مذکورہ میں ثابت ہے وہی مارنے کے معنی ہیں کوئی اور غیر آں۔نتواں گفت که میرانیدن مسلّم است لیکن آں نہیں۔اور نہیں کہا جا سکتا کہ مارنا مسلم ہے لیکن وہ موت موت ہنوز واقع نشده بلکہ آئندہ واقع خواهد شد۔زیر ابھی واقع نہیں ہوئی بلکہ آئندہ واقع ہو گی۔اس لئے کہ آنکہ حضرت عیسی علیہ السلام در آیه فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی فی حضرت عیسی علیہ السلام فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی والی آیت میں فرماید که فتنه ضلالت نصاری بعد از موت من بوقوع فرماتے ہیں کہ ضلالت نصاری کا فتنہ میری موت کے بعد آمده است نه قبل از موت من۔وقوع میں آیا ہے نہ کہ میری موت سے پہلے۔