حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 483 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 483

حیات احمد ۴۸۳ جلد چهارم تھا کہ ہم دونوں ہاتھ پکڑ کر شاہی مسجد کے مینار سے کودتے ہیں اور جو زندہ رہے گا وہ صادق سمجھا بقیہ حاشیہ۔مردم سادہ لوح و شکم پرست فوج در فوج بقیہ حاشیہ سادہ لوح اور شکم پرست لوگ گروہ در گروہ مرتد مرتد شدند و بدان گونه بر اسلام حملہ ہا کردند کہ قریب ہونے شروع ہو گئے اور اسلام پر اس قسم کے حملے کرنے لگے بود که آفته عظیم بر دین متین فرود آید۔بدیں آفت کہ قریب تھا کہ دین متین پر کوئی بہت بڑی آفت نازل ہوتی آفتے دیگر این متضم شد که در قوم تقویٰ و طہارت کم اس آفت میں کوئی دوسری آفت بھی مل جاتی کہ قوم میں سے گردید و در اسلام فرقہ ہائے باطلہ باکمال علو پدید تقوی گم ہو جاتا اور اسلام میں باطل فرقے بڑی کثرت سے آمدند و حقیقت شناسان کم شدند پیدا ہو جاتے اور حقیقت شناس کم ہو جاتے۔پس برائے استیصال ایں ہر دوفتنہ بر صدی چہار دہم پس ان دونوں فتنوں کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے انہوں مرا فرستادند و از لحاظ اصلاح فتنہ ہائے اندرونی نے مجھے چودھویں صدی کے سر پر بھیجا اور اندرونی فتنوں کی نام من مهدی موعود نهادند و از لحاظ اصلاح فتنہ ہائے۔اصلاح کے لیے انہوں نے میرا نام مہدی موعود رکھا اور بیرونی فتنوں کی اصلاح کے لیے اور یہود سیرت قوم کی بیرونی و تکفیر قوم یہود سیرت بنام عیسی بن مریم مرا اصلاح کے لیے انہوں نے مجھے عیسی بن مریم کے نام سے موسوم کردند و بشارت دادند که این کسر صلیب موسوم کیا۔اور یہ خوشخبری دی کہ اس وقت کسر صلیب بر دست تو خواهد بود چنیں فتح وغلبہ بر فرقہ ہائے باطلہ تیرے ہاتھ سے ہوگی اور اسی طرح مسلمان کہلانے والوں اندرونی اسلام که مخالف مذہب حق اہل سنت اند کے باطل فرقے جو مذہب حق اہل سنت کے مخالف ہیں پر فتح و غلبہ کو میرے نام سے موسوم کیا۔بنام من نوشتند۔و مرا خدائے کہ بامن است با نشانها غیب فرستادہ میرا خدا جو میرے ساتھ ہے اس نے مجھے غیب کے است و انوار و برکات عطا نموده و نورے کہ جمیع نشانات کے ساتھ بھیجا ہے۔اور اُس نے انوار و برکات ظاہر فرمائے ہیں۔وہ نور جو اس نے تمام ائمہ اہل بیت کو ائمہ اہل بیت را داده بودند و گم شده بود ہماں نور عطا فرمایا ہے اور اب وہ گم ہو چکا تھا وہی نور اکمل واتم طور بوجہ اکمل و اتم در من ظهور نموده است و مرا از پر میرے لئے ظاہر فرمایا ہے۔اور مجھے متواتر ہونے والے الہامات متواتره و آیات متکاثره یقین بخشیده اند الہامات اور بکثرت ظاہر ہونے والے نشانات سے یقین کہ من ہماں مسیح موعود مہدی معہود و امام آخر زمانم بخشتا ہے کہ میں وہی مسیح موعود، مہدی معہود اور امام آخر زمان کہ ذکر او در احادیث نبویہ و آثار سلف صالح آمدہ ہوں جس کا ذکر احادیث نبویہ اور اسلاف صالحین کی روایات میں آتا ہے۔اور دعویٰ مسیحیت اور مہدویت است و این دعوی مسیحیت و مهدویت امرے نیست ایسا امر نہیں ہے جو بے دلیل ہو اور نہ بیہودہ اور باطل کہ بے دلیل باشد و نہ تربات باطلہ کہ اصلے و حقیقتے باتیں ہیں جو کوئی حقیقت اور اصلیت نہ رکھتی ہوں بلکہ ندارند بلکه بر صدق دعوئی خود جہاں قسم دلائل می داریم اپنے دعوی کی سچائی پر ہم وہ سب قسم کے دلائل رکھتے ہیں۔