حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 481
حیات احمد ۴۸۱ جلد چهارم شائع کیا اس اشتہار میں مستور نجفی کو اپنے دعوئی اور دلائل سے پوری طرح آگاہ فرمایا اور اس نے جو چالیس دقیقہ میں نشان نمائی کا دعویٰ کیا تھا آپ نے فرمایا چالیس دقیقہ نہیں چالیس دن کے اندر غیب پر مشتمل پیشگوئی شائع کرو۔اور ہم چالیس دن کے اندر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظہور نشان کا اعلان کرتے ہیں چنانچہ ابھی چالیس دن نہ گزرے تھے کہ وہ عظیم نشان پنڈت لیکھرام صاحب کے قتل کی صورت میں ظاہر ہو گیا اور اس پر حضرت اقدس نے ۱۰ مارچ ۱۸۹۷ء کو بقیہ حاشیہ۔و مناسب می دانیم که هر چه از خدا تعالیٰ بقیہ حاشیہ۔اور مناسب جانتے ہیں کہ اللہ تعالی نے جو کچھ بمارسیده است بطور تبلیغ بدیشان رسا نیم۔بعد ازاں ہمیں پہنچایا ہے ہم بطور تبلیغ ان کو پہنچا دیں اور اس کے بعد اگر اوشاں را حجابے وشکے باقی ماند اختیار مے دارند کہ ان کو کوئی حجاب اور شک باقی رہا تو ان کو اختیار ہے کہ بصدق دل در بینجا بیاید و هیچو طالبان حق وساوس خود را صدق دل سے یہاں آئیں اور طالبان حق کی طرح اپنے دور کنانند وساوس کو دور کروائیں کیا پس واضح باد که چنانکه از اشارات ربانی قرآن پس واضح رہے کہ چونکہ ربانی اشاروں سے ظاہر ہے قرآن شریف و منطوق صحیح بخاری ومسلم وغیرہ کہ کتب مسلمہ و شریف اور منطوق صحیح بخاری و مسلم و غیرہ اہل اسلام کے مقبولہ اہل اسلام هستند معلوم و مفہوم می گردد حقیقت نزدیک کتب مسلمہ اور مقبولہ ہیں اور یہ بات ہر ایک کو معلوم و امرایی است که در قضا وقد رخداوند حکیم علیم کہ اظہار مفہوم ہے اور اس امر کی حقیقت یہ ہے کہ خداوند کریم وحکیم کی آن در پیرا یہ پیشگوئی ہاشده چنیں رفته بود که در وقتی که بر قضا و قدر جس کا اظہار پیشگوئی کے طور پر ہوگا۔اس طور پر گزری تھی کہ جس وقت روئے زمین پر عیسائیت اور عیسی روئے زمین عیسائیت و عیسی پرستی غلبه کند و صلیب را آن پرستی غلبہ کرے گی اور صلیب کے لئے وہ عزت اور شان پیدا عزتے وشانے پیدا گردد که آنچه از خدائے غفور و رحیم باید ہو جائے جو خدائے رحیم وغفور سے تلاش کرنی چاہیے وہ اسے جست از صلیب بجویند و بخواهند که توحید از روئے زمین صلیب سے تلاش کریں گے اور وہ چاہیں گے کہ توحید روئے معدوم گردد و حملہ ہائے سخت بر مسلماناں کنند۔زمین سے معدوم ہو جائے اور وہ مسلمانوں پر سخت حملے کریں ه یاد ماند که ما بر منکران اتمام حجت کردیم و بعد ازاں بہتر جمہ۔یاد رہنا چاہیے کہ ہم نے انکار کرنے والوں کے لیے پیچ حاجت مناظرہ نماندہ۔ہاں ہر طالب حق را اختیار اتمام حجت کر دیا ہے۔اس کے بعد اب کسی مناظرہ کی ضرورت نہیں رہی۔ہاں ہر حق کے طالب کو اختیار ہے شیخ ہو یا شاب است شیخ باشد یا شاب که نزد ما از صدق دل بیائید و (یعنی کوئی بڑا عالم ہو یا چھوٹا ) کہ وہ ہمارے پاس صدق دل سے شکوک خود رفع کناند - ما از پنجا کہ مرجمع ہزار ہا طالبان آئے اور اپنے شکوک دور کرے ہم اس جگہ ہزاروں طالبان حق کا حق است نتوانیم حرکت کرد۔ہر کہ طلبے دارد بیائید مرجع ہیں۔ہم حرکت نہیں کر سکتے۔ہر شخص جو طلب حق رکھتا ہے وہ بفضلہ تعالی تسلی با یا بدمنه آئے بفضل خدا وہ تسلی تشفی پائے گا۔منہ