حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 480
حیات احمد ۴۸۰ جلد چهارم بعض چھوٹے چھوٹے رسالے لکھے۔مگر اس وقت (۱۸۹۷ء) تک شیعہ جماعت نے اس جنگ میں شریک ہونا مناسب نہ سمجھا مگر طہرانی نجفی نے لاہور پہنچ کر بعض لوگوں کے اکسانے پر پانچوں سوار کی سستی شہرت حاصل کرنی چاہی اور خود مستور رہ کر بعض شیعہ صاحبان کے ذریعہ حضرت اقدس کو لکھا کہ شیخ نجفی آپ سے مباحثہ کرنے کا خواہش مند ہے حضرت اقدس نے ان خطوط کے جواب میں ذاتی خط لکھنا پسند نہ فرمایا بلکہ ایک مبسوط اشتہارے یکم فروری ۱۸۹۷ء کو فارسی زبان میں ے حاشیہ۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلَّى عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ اشتہار واجب الاظہار ترجمہ از مرتب۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ اشتہار واجب الاظہار در میں وقت دو قطعه خط از طرف بعض شیعہ صاحبان اس وقت دو عدد خط بعض شیعہ صاحبان کی طرف سے مجھے بمارسیده و در آنها ظاهر ساخته اند که یکے از بزرگان شاں پہنچے ہیں۔اور اس میں انہوں نے ظاہر کیا ہے کہ ان کے بزرگوں میں سے ایک بزرگ موسوم حاجی شیخ محمد رضا طہرانی نجفی الموسوم بحاجی شیخ محمد رضا طہرانی نجفی در میں روز با وارد لا ہور ان دنوں لاہور وارد ہوئے ہیں۔اور اس طرف یعنی میرے ساتھ است و آرزوئی بحث و مناظرہ بائیں جانب می دارد بحث مناظرہ کی آرزو رکھتے ہیں۔لیکن یہ کچھ معلوم نہیں ہوا کہ اما هیچ معلوم نشد که آن بزرگ را کدام مانع پیش آمد که اس بزرگ کو کون سا مانع پیش آیا کہ اس نے بلا واسطہ ہم سے خط بلا واسطه بما خط و کتابت نتوانست کرد و حجاب وساطت و کتابت نہیں کی اور توسط کے حجاب کو درمیان سے نہیں اٹھایا۔را از میان نبر داشت خیر اگر این کار را اونکر دما می کنیم۔ٹھیک ہے اگر اس نے یہ کام نہیں کیا ہم کرتے ہیں۔حمید در نامه مرسلہ ایں لفظ طنز آواستکبار نیز یافتیم کہ ایں چنیں بہتر جمہ مرسلہ خط میں یہ لفظ طنزیہ اور متکبرانہ انداز میں ہم پاتے مردم که از معقول بے بہرہ اند قابل مخاطبت شیخ الاسلام ہیں کہ اس طرح کے لوگ جو معقول باتوں سے بھی بے بہرہ ہیں اور شیخ نیستند و در مخاطبت شاں کسر شان حضرت شیخ است مگر الاسلام سے مخاطب ہونے کے لائق نہیں ہیں۔حالانکہ ایسے لوگوں کی الحمد للہ کہ معقول پسندی شیخ صاحب در ہمیں خط معلوم شد - شان میں حضرت شیخ کے الفاظ کسر شان کے برابر ہیں۔مگر الحمدللہ شخصی که خسوف و کسوف قمر و شمس را در ساعت واحد جمع می کند که معقول پسندی کیا ہے۔شیخ صاحب کے نزدیک یہ بات ہمیں اس و بر معقولات قرآنی ہم نظیرے ندارد یعنی بریں آیت خط سے معلوم ہوئی ہے۔وہ شخص کہ جو کسوف و خسوف شمس و قمر کو لَا الشَّمْسُ يَنْبَغِي لَهَا أَن تُدْرِكَ الْقَمَرَ خدا نکند که او را ز معقولات حظے وقسمتے باشد - منه يس : ۴۱ ساعت واحد میں جمع کرتا ہے اور قرآنی علوم میں اپنی نظیر نہیں رکھتا لینی اس آیت کے بارے میں یہ کہ سورج کے لئے مناسب نہیں کہ وہ چاند کو پا سکے۔خدا نہ کرے کہ وہ معقولات کا حصہ اور نصیبہ رکھتا ہو۔