حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 482
حیات احمد ۴۸۲ جلد چهارم جائے گی۔پس اس قصہ تکفیر کا مسیح کے قصہ تکفیر سے مناسبت کی مندرجہ حاشیہ اعلان شائع کیا اور اس طرح پر شیخ نجفی کا قصہ ختم ہو گیا۔شیخ نجفی نے یہ بھی دعوی کیا بقیہ حاشیہ۔در آن زمان خدائے قادر شخصے را برائے بقیہ حاشیہ۔اس زمانے میں خدائے قادر کسی شخص کو صلیب کو شکستن شوکت صلیب و اعانت قوم اسلام خواہد فرستاد۔توڑنے اور مسلمانوں کی اعانت کے لیے بھیجے گا۔اور وہ مسیح ابن واد همچو صیح ابن مریم مصدق کتاب قوم خود و موید شاں مریم کی طرح اپنی قوم کی کتاب کا مصدق ہوگا اور ان کا تائید خواہد شد۔وقوم ہیچو یہود مکفر و مکذب او خواهند گردید۔کرنے والا بھی۔اور قوم یہود کی طرح اس کی مکفر و مکذب ہو پس بوجہ مناسبت قصه تکفیر او بقصه تکفیر مسیح نام او عیسی خواہد بود و نام آنانکه او را کافر خواهند گفت یہود خواهد بود وایں یہود ہوگا۔اور یہ دونوں نام استعارہ کے طور پر ہوں گے نہ کہ ہر دو نام بطور مجاز و استعاره بودند بوجہ حقیقت۔و بنیاد حقیقت کے رنگ میں۔اور بنیادی غلطی یہیں ہوئی ہے (یعنی) غلطی از ہمیں جا افتاد که اگر چهہ نام یہود بطور استعارہ اگر چہ (یہاں وہ یہود کے نام کو بطور استعارہ سمجھتے ہیں۔لیکن دانستید اما نام عیسی بطور حقیقت خیال کردند۔الغرض وہ عیسی کے نام کو بطور حقیقت خیال کرتے ہیں۔الغرض اس وقت دریں ہنگام که فتنه واعظان انا جیل محرفه تا بحدے رسید کہ ہنگامہ میں محرفہ انا جیل کے واعظوں کا فتنہ اس حد تک پہنچا کہ ☆ وجہ سے اس کا نام عیسی ہوگا اور جو اسے کافر کہیں گے ان کا نام بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ بنگر که آن موید من شیخ نجف را چندان امان نداد که تکمیل چل کند شیخ نجفی کا خط عربی وارد و مطبوعہ ۱۶ مارچ ۱۸۹۷ء مجھ کو ملا جس کا جواب انشاء اللہ بعد میں لکھوں گا اب اس وقت اس آسمانی نشان کو ظاہر کرنا منظور ہے کہ شیخ نجفی نے اپنے خط میں چالیس دقیقہ میں نشان دکھلانے کا وعدہ کیا تھا اور ہم نے یکم فروری ۱۸۹۷ء سے چالیس روز میں۔دیکھو حاشیہ اشتہار یکم فروری ۱۸۹۷ء۔عبارت اشتہار یہ ہے اگر نشناے از ما درین مدت چهل روز بظهور آمد و از یشان یعنی از شیخ نجفی چیزے بظہور نیامد ہمیں دلیل بر صدق ما و کذب شان خواهد شد۔سوخدا کا احسان ہے کہ یکم فروری ۱۸۹۷ ء سے پینتیس دن تک یعنی چالیس دن کے اندر نشان ہلاکت لیکھر ام پیشاوری وقوع میں آگیا اب خبر دار شیخ صال نجفی لاہور سے بھاگ نہ جائے اس کو خدا نے کھلے کھلے طور پر روسیاہ کیا اور مجھ پر احسان کیا اب ہماری طرف سے نشان تو ہو چکا اور نجفی کا کذب کھل گیا تاہم تنزل کے طور پر ہم راضی ہیں کہ وہ مسجد شاہی کے منارے سے اب نیچے گر کر دکھلاوے تا کہ اگر شیخ نجدی منظرین میں داخل ہے تو بارے شیخ نجفی کا قصہ تو تمام ہو اور اگر اب بھی اپنا نشان نہ دکھلایا تو لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِيْنَ ۱۰ مارچ ۱۸۹۷ء الراقم عدوّ التجدى والنجفى القادى إِلَى الْهَادی مرزا غلام احمد عافاه الله و اید ترجمہ۔دیکھ لے کہ اس میرے مددگار نے شیخ نجفی کو اتنی مہلت نہ دی کہ چالیس دن پورے کر لیتا۔