حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 478
حیات احمد ۴۷۸ جلد چهارم معبود فنا ہو جائے اور دنیا اور رنگ نہ پکڑ جائے تو میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں اپنے تئیں کا ذب خیال کر لوں گا اور خدا جانتا ہے کہ میں ہر گز کا ذب نہیں یہ سات برس کچھ زیادہ سال نہیں ہیں۔اور اس قدر انقلاب اس تھوڑی مدت میں ہو جانا انسان کے اختیار میں ہرگز نہیں۔پس جبکہ میں سچے دل سے اور خدا تعالیٰ کی قسم کے ساتھ یہ اقرار کرتا ہوں اور تم سب کو اللہ کے نام پر صلح کی طرف بلاتا ہوں تو اب تم خدا سے ڈرو۔اگر میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہوں تو میں تباہ ہو جاؤں گا۔ورنہ خدا کے مامور کو کوئی تباہ نہیں کرسکتا۔یہ یادر ہے کہ معمولی بخشیں آپ لوگوں سے بہت ہوچکی ہیں اور عیسیٰ علیہ السلام کی وفات قرآن اور حدیث سے بپایہ ثبوت پہنچ گئی۔اس طرف سے کتابیں تالیف ہو کر لاکھوں انسانوں میں پھیل گئیں۔طرف ثانی نے بھی ہر یک تلبیس اور تزویر سے کام لیا۔پاک کتابوں کے نیک روحوں پر بڑے بڑے اثر پڑے اور ہزار ہا سعید لوگ اس جماعت میں داخل ہو گئے اور تقریری اور تحریری بحثوں کے نتیجے اچھی طرح کھل گئے۔اب پھر اسی بحث کو چھیڑنا یا فیصلہ شدہ باتوں سے انکار کرنا محض شرارت اور بے ایمانی ہے۔کتابیں موجود ہیں۔ہاں عین مباہلہ کے وقت پھر ایک گھنٹہ تک تبلیغ کرسکتا ہوں۔پس فیصلہ کی یہی راہیں جو میں نے پیش کی ہیں۔اب اس کے بعد جو شخص طے شدہ بحثوں کی ناحق درخواست کرے گا میں سمجھوں گا کہ اس کو حق کی طلب نہیں بلکہ سچائی کو ٹالنا چاہتا ہے۔یہ بھی یادر ہے کہ اصل مسنون طریق مباہلہ میں یہی ہے کہ جو لوگ ایسے مدعی کے ساتھ مباہلہ کریں جو مامور من اللہ ہونے کا دعویٰ رکھتا ہو اور اس کو کاذب یا کافر ٹھہرا دیں وہ ایک جماعت مباہلین کی ہو صرف ایک یا دو آدمی نہ ہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ