حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 477 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 477

حیات احمد جلد چهارم نشان ظاہر نہ ہوا جو انسانی طاقتوں سے بالا تر ہو خواہ پیشگوئی ہو یا اور تو میں اقرار کروں گا کہ میں جھوٹا ہوں۔پنجم۔اور اگر یہ بھی منظور نہ ہو تو شیخ محمد حسین بطالوی اور دوسرے نامی مخالف مجھ سے مباہلہ کر لیں۔پس اگر مباہلہ کے بعد میری بددعا کے اثر سے ایک بھی خالی رہا تو میں اقرار کروں گا کہ میں جھوٹا ہوں۔یہ طریق فیصلہ ہیں جو میں نے پیش کئے ہیں اور میں ہر ایک کو خدا تعالیٰ کی قسم دیتا ہوں کہ اب سچے دل سے ان طریقوں میں سے کسی طریق کو قبول کریں۔یعنی یا تو میعاد دو ماہ میں جو مارچ ۱۸۹۷ء کی دس تاریخ تک مقرر کرتا ہوں۔اس عربی رسالہ کا ایسا ہی فصیح بلیغ جواب چھاپ کر شائع کریں یا بالمقابل ایک جگہ بیٹھ کر زبان عربی میں میرے مقابل میں سات آیت قرآنی کی تفسیر لکھیں اور یا ایک سال تک میرے پاس نشان دیکھنے کے لئے رہیں اور یا اشتہار شائع کر کے اپنے ہی گھر میں میرے نشانات کی ایک برس تک انتظار کریں۔اور یا مباہلہ کر لیں۔ششم۔اور اگر ان باتوں میں سے کوئی بھی نہ کریں تو مجھ سے اور میری جماعت سے سات سال تک اس طور سے صلح کر لیں کہ تکفیر اور تکذیب اور بد زبانی سے منہ بند رکھیں۔اور ہر ایک کو محبت اور اخلاق سے ملیں اور قہر الہی سے ڈر کر ملاقاتوں میں مسلمانوں کی عادت کے طور پر پیش آویں۔ہر ایک قسم کی شرارت اور خباثت کو چھوڑ دیں۔پس اگر ان سات سال میں میری طرف سے خدا تعالیٰ کی تائید سے اسلام کی خدمت میں نمایاں اثر ظاہر نہ ہوں اور جیسا کہ مسیح کے ہاتھ سے ادیان باطلہ کا مرجانا ضروری ہے یہ موت جھوٹے دینوں پر میرے ذریعہ سے ظہور میں نہ آوے یعنی خدا تعالیٰ میرے ہاتھ سے وہ نشان ظاہر نہ کرے جن سے اسلام کا بول بالا ہو اور جس سے ہر ایک طرف سے اسلام میں داخل ہونا شروع ہو جائے اور عیسائیت کا باطل