حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 466 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 466

حیات احمد ۴۶۶ من نکردم شما جلد چهارم عذر بکنید مگر اس کی اولا د نے اسی راستہ پر قدم مارا اور آخر سلطنت کھو کر اب جلا وطنی کی حالت میں امان اللہ اٹلی میں اپنی زندگی کے آخری دن گزار رہا ہے۔مولوی غلام دستگیر قصوری مباہلہ کے میدان میں حضرت اقدس نے جب رسائل اربعہ شائع کئے اور دعوت قوم کے نام سے مباہلہ کا اک چیلنج دیا جو اسی کتاب کے صفحہ ۶۴ تا ۲ے پر درج ہے تو اس کے جواب میں مولوی غلام دستگیر قصوری نے بظا ہر آمادگی اور فی الحقیقت گریز کے لئے ایک حیلہ تجویز کیا۔عرفانی اور مولوی غلام دستگیر مولوی غلام دستگیر صاحب سے راقم الحروف بخوبی واقف تھا نا مناسب نہ ہوگا اگر اس کا مختصر ذکر بطور ایک تعارفی نوٹ کے یہاں درج کر دوں اس لئے کہ اس دعوت مباہلہ کے سلسلہ میں جو خط و کتابت حضرت اقدس اور قصوری کے مابین ہوئی اور حضرت اقدس نے جو وفد قادیان بھیجا اس میں حضرت حکیم فضل الدین کے ساتھ اس خاکسار کو بھی شرف شراکت بخشا گیا تھا۔اور اس طرح پر وہ اس ساری کارروائی کا شاہد عینی ہے۔تعارفی نوٹ مولوی غلام دستگیر صاحب قصور کی مسجد کلاں کے امام تھے اور قصور میں ان کا بڑا اثر اور دخل تھا۔خاکسار عرفانی الاسدی کو مولوی غلام دستگیر صاحب کی خطرناک مخالفت کے سلسلہ میں ہی لے ترجمہ۔میں نے کیا ہی نہیں اور تم عذر کرتے ہو۔روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۶۴ تا ۷۲