حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 465
حیات احمد ۴۶۵ جلد چهارم تحقیقات ہے یہ مکتوب امیر کا بل کو ضرور پہنچا مگر اس نے حضرت کو کوئی جواب نہ دیا بلکہ عملاً اس کی تحقیر کی۔اور یہ فقرہ خواجہ صاحب نے لکھا ہے ممکن ہے اپنے غضب کے اظہار میں کہا ہو۔لیکن اللہ تعالیٰ اپنے مامورین کے لئے ایک غیرت رکھتا ہے۔جس کا اظہار آگے آئے گا۔امیر موصوف اس وقت کوئی وجہ موجہ شرعی نوٹس لینے کی نہ رکھتا تھا۔یہاں تک کہ ۱۹۰۰ء کے اواخر میں سرحد پر جوش جہاد کے نام نہاد فتوی کی بنا پر بعض انگریزوں کا قتل ہوا اور حضرت اقدس نے اس کے خلاف صحیح تعلیم اسلام پیش کی اور جہاد کی حقیقت بیان کی دسمبر ۱۹۰۰ء جب حضرت عبدالرحمان خان براه خوست حضرت صاحبزادہ عبداللطیف سے مل کر کا بل واپس ہوئے اس وقت وہ جہاد کے متعلق رسالجات بھی ساتھ لے گئے تھے۔اور ان کا غلط مفہوم یہ لیا گیا کہ یہ جہاد کے منکر ہیں۔کابل کے علماء سے بھی گفتگو ہوئی اُن علماء سوء نے معاملہ امیر عبدالرحمن خاں تک پہنچا دیا۔جس نے انہیں دربار میں بلا کر بیان لیا اور اس بیان کا غلط مفہوم لے کر حضرت اقدس اور جماعت احمدیہ کو منکر جہاد قرار دیا اور حضرت عبدالرحمن خان کو قید کر دیا دوران قید میں بھی ان سے استفسار ہوتا رہا۔آخر اس ظالم امیر نے علماء سوء کی تحریک پر حضرت عبدالرحمن صاحب کو گلا گھونٹ کر شہید کرا دیا۔بظاہر اُس نے اور اُس کے محرک علماء نے سمجھ لیا کہ انہوں نے احمدیت کو افغانستان میں ذبح کر دیا ہے مگر حقیقت میں اس نے اپنے خاندان کی حکومت کا گلا گھونٹ دیا۔اللہ تعالیٰ کی غیرت نے اپنا ظہور فرمایا اور اس واقعہ کے چند ماہ بعد ستمبر ۱۹۰۱ء کو امیر عبدالرحمن پر سخت قسم کا فالج مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی گرا اور ع آخر ۱۰ را کتوبر ۱۹۰۱ء کو اسی مرض فالج کی شدت کے عذاب میں فوت ہو گیا۔اس کی لاش اور قبر سے بزبان حال آواز آرہی تھی