حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 447
حیات احمد ۴۴۷ جلد چهارم وہ ایسی مہمل اور بیہودہ ہیں جو ہر یک سطر کے پڑھنے سے ہنسی آتی ہے۔اور پھر ان کی غفلت اور جہالت پر ایک کامل غور کے بعد رونا بھی آتا ہے اب چونکہ پادری صاحبان کسی انجیل کی تفسیر ایک محقق کی طرز پر لکھ نہیں سکے اور ایسی تفسیر کے لئے در حقیقت زمانہ موجودہ تڑپ رہا ہے اور اب تک ہم عیسائی صاحبوں کا منہ دیکھتے رہے کہ شاید اُن کی طرف سے کوئی تفسیر محققانہ طرز سے شائع ہو۔مگر اب ان کی موٹی عقلوں اور سطحی خیالوں کا بار بار تجربہ ہو کر ثابت ہو گیا کہ وہ اس لائق ہی نہیں ہیں کہ انجیل کی تفسیر لکھ سکیں۔اور یقین ہو گیا کہ ان سے ایسی امید رکھنا محض لا حاصل ہے۔لہذا ہم نے ان کے حالِ زار پر رحم کر کے یہ کام اپنے ذمہ لے لیا اور خدا تعالیٰ کے فضل اور توفیق سے وہ حقائق اور معانی ہم پر کھلے کہ جب تک کامل تائید الہی کسی شخص کے شامل حال نہ ہو ہرگز ایسے حقائق کسی پر کھل نہیں سکتے اور میں اس وقت اس تفسیر مقدس کی زیادہ تعریف لکھنا کچھ ضروری نہیں سمجھتا کیونکہ ہر یک شخص چھپنے اور شائع ہونے کے بعد خود معلوم کر لے گا کہ کس پایہ کی تفسیر ہے۔پھر فرمایا! ” ہماری تفسیر انجیل محققانہ طرز پر ہوگی اور دلوں کو ان سچائیوں سے منور کرے گی جو حق کے طالبوں کی مراد اور مقصود ہیں واضح رہے کہ اس تفسیر کی دنیا کو نہایت ضرورت تھی اور ہزاروں کے دل اس فیصلہ کے لئے جوش میں تھے کہ اس زمانہ میں کس تعلیم کو تمام تعلیموں سے اکمل و اتم واعلی وارفع سمجھا جائے چنانچہ عیسائی بجائے خود اظہار کرتے تھے کہ انجیل کی تعلیم اعلیٰ اور اکمل ہے اور اہل اسلام نہ اپنے دعوئی سے بلکہ خدا کے پاک کلام کی رو سے اس بات پر زور دیتے تھے کہ وہ تعلیم جو اعلیٰ اور اکمل دنیا میں آئی وہ صرف قرآن شریف ہے مگر عیسائیوں کو اس سچی بات کے سننے کی برداشت نہیں تھی بلکہ جیسا کہ ہمیشہ جاہلوں اور سفیہوں اور کمبخت جلد بازوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ بجائے فکر اور تدبر کے ٹھٹھے اور جنسی کی طرف جھک جاتے ہیں یا 66