حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 448 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 448

حیات احمد ۴۴۸ جلد چهارم بے اصل افتراؤں سے کام لیتے ہیں یہی عادت عیسائیوں کی تھی سو ہم نے اس تفسیر کو یکطرفہ طور پر نہیں لکھا بلکہ اس خیال سے کہ اس تقریب پر قرآن اور انجیل کا مقابلہ اور موازنہ بھی ہو جائے جابجا انجیلی تعلیم کے مقابل پر قرآنی تعلیم کو دکھلایا ہے اور مجھے یقین ہے کہ یہ طرز ان لوگوں کے لئے بہت مفید ہوگی جو انجیل اور قرآن شریف کی تعلیم کو بالمقابل وزن کرنا چاہتے ہیں۔اور میں امید رکھتا ہوں کہ نو تعلیم یافتہ لوگ جو زیرک ہیں اس طرز سے زیادہ فائدہ اٹھائیں گے۔اور میں نے اس تفسیر میں ہی مناسب دیکھا ہے کہ ہمارے سید و مولیٰ حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور یسوع صاحب کے اخلاق کا بھی باہم مقابلہ کیا جائے۔کیونکہ اس بارے میں بھی اکثر عیسائی صاحبوں ں کو بہت دھوکا لگا ہوا ہے۔لہذا یہ تمام التزام تفسیر میں کئے گئے ہیں۔“ تبلیغ رسالت جلد ۵ صفحه ۱۳ ۱۴۔مجموعہ اشتہارات جلد اصفحه ۵۵۹٬۵۵۸ طبع بار دوم ) اس تفسیر کا مقصد جیسا کہ آپ کے اعلان سے ظاہر ہے انجیل اور قرآن کریم اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام اور مزعومہ یسوع کے اخلاق کا مقابلہ تھا اگر چہ جدا گانہ تفسیر کے نام سے آپ نے یہ کتاب شائع نہ کی مگر نور القرآن، کشتی نوح اور متعدد تصنیفات میں ان مسائل پر تفصیلی بحث کر کے متقابل مذاہب کے طالب علم کے لئے ایک اعلیٰ درجہ کا علمی ذخیرہ پیش کر دیا ہے۔دو عیسائیوں میں محاکمہ دراصل یہ اعلان آپ نے ایک مقابلہ تعلیم کے بعد ہی شائع کیا تھا اور اس کی تقریب یہ ہوئی کہ خیرالدین نامی ایک عیسائی نے انجیل متی کی ایک آیت پر جو باب ۵ میں ظالم کا مقابلہ نہ کرنے کے متعلق ہے اعتراض کیا۔گوجرانوالہ کے پادری جی۔ایل ٹھاکر داس نے اس کا جواب ۳ /جنوری ۱۸۹۶ء کے نورافشاں میں دیا۔اب سوال و جواب دونوں سامنے تھے آپ نے اس پر ایک اعلان دو عیسائیوں میں محاکمہ شائع کیا۔اس محاکمہ میں آپ نے انجیل اور قرآن کی تعلیم کا