حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 442
حیات احمد ۴۴۲ جلد چهارم یہ اشتہار قریباً 4 ہزار چھاپ کر شائع کیا گیا اور مشہور پادری صاحبان کو بذریعہ رجسٹری بھیجا گیا مگر ان صاحبان میں سے کسی نے جواب تک نہ دیا یعنی ڈاکٹر کلارک۔عمادالدین۔صفدر علی۔حسام الدین۔طامس ہاول وغیرہ۔مگر ایک غیر معروف عیسائی نے کرسچن ایڈوکیٹ لکھنو میں مقابلہ کرنے کی دعوت کو تو قبول نہ کیا اور نہ مخاطب پادری صاحبان کو مقابلہ میں آنے کی تحریک کی بلکہ چند اعتراضات کر دیے کرسچن ایڈوکیٹ کا مضمون ترجمہ ہوکر اخبار عام مورخه ۲۳ فروری ۱۸۹۷ء میں شائع ہوا۔جس کا جواب حضرت اقدس نے ۲۸ / فروری ۱۸۹۷ء کو شائع کرایا۔جو بعض اخبارات میں شائع ہو گیا اور مخبر دکن مدر اس نے اار مارچ ۱۸۹۷ء کو بطور ضمیمہ شائع کیا۔چونکہ نفس دعوتِ مقابلہ سے اس کا کوئی تعلق نہیں اس لئے میں اتنا ہی لکھ دینا کافی سمجھتا ہوں کہ نہ تو دعوت مقابلہ نشانات کا عملی جواب دیا گیا اور نہ اس کا جواب الجواب لکھنے کی کسی کو توفیق ملی۔کسر صلیب اور لعنت مگر کرسچن ایڈوکیٹ کے اعتراضات نے ایک نئی تحریک پیدا کردی اور آپ نے کسر صلیب کے لئے ایک بالکل نیا حربہ جو علمی حربہ ہے استعمال کیا اور وہ عیسی کے اس عقیدہ کو پاش پاش کرنے والا ہے کہ یسوع ہمارے گنا ہوں کے بدلے مصلوب ہوکر لعنتی ہوا چنانچہ / مارچ ۱۸۹۷ء کو آپ نے یہ اعلان شائع کیا۔خُدا کی لعنت اور کسر صلیب چونکہ عیسائیوں کا ایک متفق علیہ عقیدہ ہے کہ یسوع مصلوب ہو کر تین دن کے لئے لعنتی ہو گیا تھا۔اور تمام مدار نجات کا اُن کے نزدیک اسی لعنت پر ہے تو اس لعنت کے مفہوم کی رو سے ایک ایسا سخت اعتراض وارد ہوتا ہے جس سے تمام عقیدہ تثلیث اور کفارہ اور نیز گناہوں کی معافی کا مسئلہ کا لعدم ہوکر اس کا باطل ہونا بد یہی طور پر