حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 443
حیات احمد ۴۴۳ جلد چهارم ثابت ہو جاتا ہے۔اگر کسی کو اس مذہب کی حمایت منظور ہے تو جلد جواب دے۔ورنہ دیکھو یہ ساری عمارت گر گئی اور اس کا گرنا ایسا سخت ہوا کہ سب عیسائی عقیدے اس کے نیچے کچلے گئے۔نہ تثلیث رہی نہ کفارہ نہ گناہوں کی معافی۔خدا کی قدرت دیکھو کہ کیسا کسر صلیب ہوا !!! اب ہم صفائی اعتراض کے لئے پہلے لغت کی رو سے لعنت کے لفظ کے معنی کرتے ہیں اور پھر اعتراض کو بیان کر دیں گے۔سو جاننا چاہیے کہ لسان العرب میں کہ جو لغت کی ایک پرانی کتاب ہے اسلامی تالیفات میں سے ہے اور ایسا ہی قطر المحیط اور محیط اور اقرب الموارد میں جو دو عیسائیوں کی تالیفات ہیں۔جو حال میں بمقام بیروت چھپ کر شائع ہوئی ہیں اور ایسا ہی کتب لغت کی تمام کتابوں میں جو دنیا میں پائی جاتی ہیں۔لعنت کے معنے یہ لکھے ہیں اَللَّعْنُ : الْإِبْعَادُ وَالطَّرَدُ مِنَ الْخَيْرِ وَمِنَ اللهِ وَمِنَ الْخَلْقِ وَمَنْ أَبْعَدَهُ اللَّهُ لَمْ تَلْحَقْهُ رَحْمَتُهُ وَخَلَّدَ فِي الْعَذَابِ وَاللَّعِيْنُ الشَّيْطَانُ وَالْمَمْسُوْحُ وَقَالَ الشَّمَّانُ: مَقَامُ الذَّنْبِ كَالرَّجُلِ اللَّعِيْنِ۔یعنی لعنت کا مفہوم یہ ہے کہ لعنتی اس کو کہتے ہیں جو ہر ایک خیر و خوبی اور ہر قسم کی ذاتی صلاحیت اور خدا کی رحمت اور خدا کی معرفت سے بکتی ہے بہرہ اور بے نصیب ہو جائے۔اور ہمیشہ کے عذاب میں پڑے۔یعنی اُس کا دل بکتی سیاہ ہو جائے اور بڑی نیکی سے لے کر چھوٹی نیکی تک کوئی خیر کی بات اُس کے نفس میں باقی نہ رہے۔اور شیطان بن جائے اور اس کا اندر مسخ ہو جائے یعنی کتوں اور سوروں اور بندروں کی خاصیت اس کے نفس میں پیدا ہو جائے اور شماخ نے ایک شعر میں لعنتی انسان کا نام بھیڑ یا رکھا ہے۔اس مشابہت سے کہ لعنتی کا باطن مسخ ہو جاتا ہے۔تمَّ كَلَامُهُمْ۔ایسا ہی عرف عام میں بھی جب یہ بولا جاتا ہے کہ فلاں شخص پر خدا کی لعنت ہے تو ہر ایک ادنی اعلیٰ یہی سمجھتا ہے کہ وہ شخص خدا کی نظر میں واقعی طور پر پلید