حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 436
حیات احمد ۴۳۶ جلد چهارم ہے۔اللہ تعالیٰ کے ایک برگزیدہ نبی تھے وہ خدا یا خدا کے بیٹے نہ تھے۔اسی سلسلہ میں امرت سر کا وہ مباحثہ ہوا جو جنگِ مقدس کے نام سے مشہور ہے اور جس کا ذکر اسی کتاب میں ہو چکا مگر آپ نے اپنے اس فرض کسر صلیب سے کسی وقت بھی توجہ کو نہیں ہٹایا در اصل یہ ایک فطرتی رنگ تھا اور مختلف پہلوؤں سے آپ اس باطل کو پاش پاش کرنے کے لئے اپنی ذوالفقار قلم سے کام لیتے تھے۔مذہبی مناظرات اور مباحثات سے حق و باطل میں فیصلہ کی کوئی صورت نہ دیکھ کر بلکہ ان بقیہ حاشیہ۔مذہب کو ظاہر کرتا ہے اور چولہ کی عزت جواب کی جاتی ہے درحقیقت یہ پرانی عزت ہے جو با واہ صاحب ہی سے شروع ہوئی۔(۲) دوسرے آپ کا دعوی ہے کہ نَعُوذُ باللہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بد کار اور فاسق آدمی تھے اور باوانا تک صاحب آنجناب سے بیزار تھے۔اور آنحضرت کو بُرا کہا کرتے تھے مگر میں کہتا ہوں کہ یہ بالکل جھوٹ ہے بلکہ یہ باتیں اس وقت گرنتھوں میں ملائی گئی ہیں جب کہ سکھ مذہب میں بہت سا تعصب داخل ہو گیا تھا۔ورنہ باوا صاحب در حقیقت ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ میں فدا تھے۔اب فیصلہ اس طرح پر ہو سکتا ہے کہ آپ اگر اپنے اس عقیدہ پر یقین رکھتے ہیں تو ایک مجلس عام میں اس مضمون کی قسم کھاویں کہ در حقیقت با وانا نک دین اسلام سے بیزار تھے اور پیغمبر اسلام علیہ السلام کو بُرا سمجھتے تھے اور نیز در حقیقت پیغمبر اسلام نعوذ باللہ فاسق اور بدکار تھے۔اور خدا کے سچے نبی نہیں تھے اور اگر یہ دونوں باتیں خلاف واقعہ ہیں۔تو اے قادر کرتار مجھے ایک سال تک اس گستاخی کی سزا سخت دے۔اور ہم آپ کی اس قسم پر پانسوروپیہ ( فما ) ایک جگہ پر جہاں آپ کو اطمینان ہو جمع کرا دیتے ہیں۔پس اگر آپ در حقیقت بچے ہوں گے تو سال کے عرصہ تک آپ کے ایک بال کا نقصان بھی نہیں ہوگا۔بلکہ پانسو روپیہ آپ کو ملے گا اور ہماری ذلت اور روسیاہی ہوگی۔اور اگر آپ پر کوئی عذاب نازل ہو گیا تو تمام سکھ صاحبان درست ہو جائیں گے۔میں جانتا ہوں کہ سکھ صاحبوں کو اسلام سے ایک مناسبت ہے جو ہندوؤں کو نہیں اور وہ جلد آسمانی نشان کو سمجھ لیں گے۔آپ لوگ ہندوؤں کی طرح بُزدل نہیں بلکہ ایک بہادر قوم ہیں اس لئے مجھے امید ہے کہ آپ اس طریق فیصلہ کو ضرور قبول کر لیں گے۔اور ایک اخبار میں حسب بیان مذکورہ بالا چھپوا نا ہوگا کہ میں ایسی قسم کھانے یہ ضروری ہوگا کہ جس اخبار میں آپ یہ اقرار شائع کریں ایک پرچہ اس اخبار کا بذریعہ رجسٹری ہمارے پاس بھیج دیں اور ہم ذمہ وار ہوں گے کہ تین ہفتہ تک روز وصول اخبار سے آپ کے لئے پانسو روپیہ جمع کرا دیں۔بشر طیکہ آپ بلا کم و بیش حسب ہدایت ، ہمارے اشتہار کے اقرارات مطلوبہ کو اپنی طرف سے شائع کر دیں۔منہ