حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 435 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 435

حیات احمد ۴۳۵ جلد چهارم پادریوں سے قطعی فیصلہ کا مطالبہ ایک ایسا عقیدہ تھا جس کی وجہ سے ہر قسم کی اخلاقی اور روحانی پاکیزگی کا ستیا ناس ہو جاتا تھا اور اسی عقیدہ صلیبی مذہب نے ایک عاجز انسان کو تخنت الوہیت پر بٹھا دیا تھا۔اس عقیدہ کے ابطال کے لئے آپ نے دلائل قاطعہ سے ثابت کیا کہ مسیح ابن مریم علیہ السلام جن کا ذکر قرآن کریم میں بقیہ حاشیہ۔اس صورت میں حق مشتبہ ہو جاتا ہے۔اور امان اٹھ جاتا ہے۔کیا کسی نے دیکھا کہ مثلاً جھوٹا تحصیلدار بچے تحصیلدار کے مقابل پر دو چار برس تک مقدمات کرتا رہا اور کسی کو قید اور کسی کو رہائی دیتا رہا اور اعلیٰ افسر اس مکان پر سے گزرتے رہے مگر کسی نے اس کو نہ پکڑا نہ پوچھا بلکہ اس کا حکم ایسا ہی چلتا رہا جیسا کہ بچے کا ؟ سو یقیناً سمجھو کہ یہ بات بالکل غیر ممکن ہے کہ ایک نبی کی اتنی بڑی عزتیں اور شوکتیں دنیا میں پھیل جائیں کہ کروڑ ہا مخلوق اس کی امت ہو جائے۔بادشاہیاں قائم ہو جائیں اور صدہا برس گزر جائیں اور دراصل وہ نبی جھوٹا ہو۔جب سے کہ دنیا پیدا ہوئی ایک بھی اس کی نظیر نہیں پاؤ گے۔ہاں یہ ممکن ہے کہ دراصل کوئی نبی سچا ہو۔اور کتاب کچی ہو۔پھر مرور زمانہ سے اس کتاب کی تعلیم بگڑ جائے اور لوگ غلط فہمی سے اس کے منشاء کے برخلاف عمل کرنا شروع کر دیں چنانچہ یہ بات بالکل درست ہے کہ ہر ایک بگڑا ہوا مذہب جو دنیا میں پھیل گیا تھا۔اور جس نے ایک عمر پائی وہ ایک کچی جڑ اپنے اندر مخفی رکھتا ہے گو اُس کی تمام صورت بدلائی گئی اسی لئے اسلام کسی عمر پانے والے اور جڑ پکڑنے والے مذہب کے پیشوا کو بدی سے یاد نہیں کرتا کیونکہ یہ غیر ممکن ہے کہ جو لوگ خدا کے حکم سے آتے اور اُس کی کتاب لاتے ہیں اُن کے پہلو بہ پہلو عزت اور جلال میں وہ لوگ بھی ہوں جو نا پاک طبع اور خدا پر افترا کرنے والے ہیں۔نہ انسانی گورنمنٹ کی غیرت اس بات کو قبول کر سکتی ہے اور نہ خدا کی غیرت کہ جو لوگ جھوٹے طور پر اپنے تئیں عہدہ دار اور سرکاری ملازم ظاہر کرتے ہیں اُن کو ایسی ہی عزت دی جائے جیسا کہ بچے کو۔اور ان کو مفتر یا نہ کاموں میں ایسا ہی چھوڑا جائے جیسا کہ بچوں کو اپنی جائز حکومتوں میں۔اور وہ طریق جس کے رو سے اس وقت آپ پر خدا کی حجت پوری کرنا چاہتا ہوں یہ ہے کہ آپ کا دعویٰ ہے کہ با وانا تک صاحب مسلمان نہیں تھے۔اور میں کہتا ہوں کہ در حقیقت وہ مسلمان تھے۔اور جیسا کہ بالا کی جنم ساکھی میں لکھا ہے درحقیقت چولا جو اب ڈیرہ ناٹک میں موجود ہے یہ باوانا نک صاحب کا چولا تھا جو اُن کے باوانا نک صاحب کا مسلمان ہونا آپ کی ایک جنم ساکھی سے بھی پایا جاتا ہے جس نے صاف لفظوں میں اس بات کی طرف ایما کی ہے کہ باوا صاحب نے آخری عمر میں حیات خاں نامی ایک مسلمان کی لڑکی سے شادی کی تھی۔منہ