حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 427 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 427

حیات احمد ۴۲۷ جلد چهارم حال ہمیں سنایا۔لیکن ہم نے ان کے بیان پر بھی اکتفا نہ کیا۔اور سوچا کہ بادا نانک کی اسلام کے لئے یہ ایک عظیم الشان گواہی ہے اور ممکن ہے کہ دوسروں کی روایتوں پر تحقیق پسند لوگوں کو اعتماد نہ ہو اور یا آئندہ آنے والی نسلیں اس سے تسلی نہ پکڑ سکیں اس لئے یہ قرین مصلحت معلوم ہوا کہ آپ جانا چاہیے تا صرف شنید پر حصر نہ رہے اور اپنی ذاتی رویت ہو جائے۔چنانچہ ہم بعد استخارہ مسنونہ میں ستمبر ۱۸۹۵ء کو پیر کے دن ڈیرہ نانک کی طرف روانہ ہوئے اور قریباً دس بجے پہنچ کر گیارہ بجے چولا صاحب کے دیکھنے کے لئے گئے۔اور ایک جماعت مخلص دوستوں کی میرے ساتھ تھی۔جو چولا صاحب کے دیکھنے میں میرے شریک تھی۔اور وہ یہ ہیں۔(۱) اخویم مولوی حکیم نورالدین صاحب بھیروی (۲) اخویم مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی (۳) اخویم مولوی محمد احسن صاحب امروہی (۴) اخویم شیخ رحمت اللہ صاحب گجراتی (۵) اخویم منشی غلام قادر صاحب فصیح سیالکوٹی (۵) اخویم میرزا ایوب بیگ صاحب کلانوری (۷) اخویم شیخ عبدالرحیم صاحب نومسلم (۸) اخویم میر ناصر نواب صاحب دہلوی (۹) سید محمد اسماعیل دہلوی (۱۰) شیخ حامد علی تجھ غلام نبی چنانچہ ایک مخلص کی نہایت درجہ کی کوشش اور سعی سے ہم کو دیکھنے کا وہ موقعہ ملا کہ اس جگہ کے لوگوں کا بیان ہے کہ جہاں تک یاد ہے ایسا موقع کسی کو بھی نہیں ملا یعنی یہ کہ چولا صاحب کی تمام تحریرات پر ہمیں اطلاع ہو گئی اور ہمارے لئے وہ بہت ہی اچھی طرح حاشیہ۔اس سفر کا ایک عجیب واقعہ بھی قابل اندراج ہے جو حضرت کی سیرۃ کا ایک گراں بہا ورق ہے۔آپ کی مجلس میں کوئی امتیازی نشان نہیں ہوتا تھا آپ اپنے خدام سے ملے جلے رہتے۔ڈیرہ نا تک پہونچ کر کچھ دیر کے لئے آپ ایک بڑ کے درخت کے سایہ میں تشریف فرما ہوئے۔آپ کے ورود کی خبر سن کر لوگ آپ کی زیارت کے لئے آنے لگے۔چونکہ کوئی امتیازی نشان تو تھا نہیں بعض نے حضرت مولوی سید محمد احسن صاحب ہی کو حضرت مسیح موعود سمجھ کر ان سے مصافحہ کر لیا۔لیکن تھوڑی دیر کے بعد اس غلطی کا ازالہ ہو گیا۔اور خود مولوی محمد حسن صاحب نے حضرت اقدس کے وجود باجود کی طرف رہنمائی کر کے اپنی پوزیشن کو صاف کر دیا۔(عرفانی)