حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 428
حیات احمد ۴۲۸ جلد چهارم کھولا گیا۔اس پر تین سو کے قریب یا کچھ زیادہ رومال لپیٹے ہوئے تھے اور بعض ان میں سے بہت نفیس اور قیمتی تھے۔کچھ تو ریشمی رومال تھے اور کچھ سوتی اور بعض پشمینہ کے تھے اور بعض پشمینہ کے شال اور ریشمی کپڑے ایسے تھے کہ ان کی بنت میں کچھ لکھا ہوا تھا اس غرض سے کہ تا معلوم ہو کہ یہ فلاں راجہ یا امیر نے چڑھائے ہیں ان رومالوں سے جو ابتدا سے ہی چڑھنے شروع ہو گئے یہ یقین کیا جاتا ہے کہ جو کچھ اس چولہ کی اب تعظیم ہوتی ہے وہ صرف اب سے نہیں بلکہ اُسی زمانہ سے ہے کہ جب باوا نا نک صاحب فوت ہوئے۔غرض جب ہم جا کر بیٹھے تو ایک گھنٹہ کے قریب تک تو یہ رومال ہی اتر تے رہے۔پھر آخر وہ کپڑا نمودار ہو گیا جو چولا صاحب کے نام سے موسوم ہے۔درحقیقت یہ نہایت مبارک کپڑا ہے جس میں بجائے زری کے کام کے آیات قرآنی لکھی ہوئی ہیں۔چنانچہ ہم نے اس کپڑا کا نقشہ اسی رسالہ میں لکھ کر ان تمام قرآنی آیات کو جا بجا دکھلا دیا ہے۔جو اس کپڑے پر لکھی ہوئی ہم نے دیکھی ہیں۔اس وقت یہ بھی معلوم ہوا کہ اس کپڑے کے دکھلانے کے وقت دکھلانے والوں کو کچھ شرم سی دامنگیر ہو جاتی ہے اور وہ حتی المقدور نہیں چاہتے کہ اصل حقیقت سے لوگ اطلاع پا جائیں کیونکہ جو عقیدہ باوا صاحب نے اس کپڑا یعنی چولا صاحب کی تحریروں میں ظاہر کیا ہے وہ ہندو مذہب سے بکلی مخالف ہے اور اسی وجہ سے جولوگ چولا صاحب کی زیارت کراتے ہیں وہ بڑی احتیاط رکھتے ہیں اور اگر کوئی اصل بھید کی بات دیکھنا چاہے تو ان کا دل پکڑا جاتا ہے مگر چونکہ ناخواندہ محض ہیں اس لئے کچھ طمع دینے سے دکھلا دیتے ہیں اور ہم نے جب دیکھنا چاہا تو اول انہوں نے صرف لپیٹا ہوا کپڑا دکھایا۔مگر کچھ تھوڑا سا کنارہ اندر کی طرف کا نمودار تھا۔جس کے حرف مٹے ہوئے تھے اور پشت پر ایک اور باریک کپڑا چڑھا ہوا تھا اور اس کی نسبت بیان کیا گیا کہ یہ وہ کپڑا ہے کہ جس کو ارجن صاحب کی بیوی نے اپنے ہاتھ سے سوت کات کر اور پھر بنوا کر اس پر لگایا تھا اور بیان کرنے والا ایک بڑھا بیدی باوا صاحب کی اولاد