حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 426 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 426

حیات احمد ۴۲۶ جلد چهارم صاحب اس قدر عزت سے رکھا گیا ہے کہ دنیا میں بڑھ کر اس سے متصور نہیں اور یہ ایک سوتی کپڑا ہے جو کچھ خاکی رنگ اور بعض بعض کناروں پر کچھ سرخی نمالے بھی ہے۔سکھوں کی جنم ساکھی کا یہ بیان ہے کہ اس میں تمین سیپارہ قرآن شریف کے لکھے ہوئے ہیں۔اور نیز وہ تمام اسماء الہی بھی اس میں مکتوب ہیں جو قرآن کریم میں ہیں۔اور سکھوں میں یہ امر ایک متفق علیہ واقعہ کی طرح مانا گیا ہے کہ یہ چولا صاحب جس پر قرآن شریف لکھا ہوا ہے۔آسمان سے باوا صاحب کے لئے اترا تھا اور قدرت کے ہاتھ سے لکھا گیا اور قدرت کے ہاتھ سے سیا گیا اور قدرت کے ہاتھ سے باوا صاحب کو پہنایا گیا۔یہ اشارہ اس بات کی طرف بھی تھا کہ اس چولا پر آسمانی کلام لکھا ہوا ہے۔جس سے باوا صاحب نے ہدایت پائی۔اور ہم نے ان بیانات پر پورا بھروسہ نہ کر کے خود اپنے خاص دوستوں کے کو اس کی پوری پوری تحقیقات کے لئے موقعہ پر بھیجا اور ان کو تاکید سے کہا کہ کسی کے کہنے پر ہرگز اعتبار نہ کریں اور خود توجہ سے اپنی آنکھ سے اس کپڑے کو دیکھیں کہ اس پر کیا لکھا ہوا ہے۔چنانچہ وہ قادیان سے روانہ ہو کر ڈیرہ ناٹک میں پہنچے اور اس موقعہ پر گئے۔جہاں چولا کی زیارت کے لئے ایک مندر بنایا گیا ہے اور کابلی مل کی اولاد کو ملے۔اور وہ لوگ خاطر داری اور تواضع سے پیش آئے اور ان کو چولہ دکھلایا گیا اور انہوں نے کلمہ طیبہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللهِ چولہ پر لکھا ہوا دیکھا اور ایسا ہی کئی اور آیات دیکھیں اور واپس آ کر تمام لے نوٹ۔ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ سرخی اس زمانہ میں ڈالی گئی ہے کہ جب کچھ تعصب پیدا ہو گیا تھا غرض یہ تھی کہ وہ حروف مٹ جائیں مگر وہ حروف بھی اب تک پڑھنے کے لائق ہیں۔منہ سے نوٹ۔وہ میرے دوست جو مجھ سے پہلے میرے ایما سے ڈیرہ نانک میں گئے اور چولہ صاحب کو دیکھ کر آئے ان کے نام یہ ہیں (۱) مرزا یعقوب بیگ صاحب کلانوری (۲) منشی تاج دین صاحب اکونٹنٹ دفتر ریلوے لاہور (۳) خواجہ کمال الدین صاحب بی اے لاہور (۴) میاں عبدالرحمن صاحب لاہوری۔اور مرزا یعقوب بیگ نے چولہ دکھانے والوں کو ایک روپیہ بھی دیا تھا۔منہ