حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 383 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 383

حیات احمد سول ملٹری کی رائے ۳۸۳ جلد چهارم اس جلسہ میں سامعین کی خاص دلچسپی مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے لیکچر کے ساتھ تھی جو اسلام کی حفاظت اور حمایت کے کامل ماسٹر ہیں اس لیکچر کے سننے کے واسطے دور و نزدیک سے لوگوں کا ایک جم غفیر جمع ہو رہا تھا اور چونکہ مرزا صاحب خود تشریف نہیں لا سکے تھے اس لئے یہ لیکچر ان کے ایک لایق شاگردمولوی عبدالکریم سیالکوٹی نے پڑھ کر سنایا ۲۸ دسمبر کو یہ لیکچر ساڑھے تین گھنٹہ تک ہوتا رہا۔اور عوام الناس نے نہایت خوشی اور توجہ سے سنا۔لیکن ابھی صرف ایک سوال ختم ہوا تھا مولوی عبدالکریم صاحب نے وعدہ کیا کہ اگر وقت ملا تو باقی بھی سنادوں گا۔اس لئے اگزیکٹو کمیٹی اور پریذیڈنٹ نے تجویز کرلی ہے کہ ۲۹ تاریخ کا روز بھی بڑہا دیا جاوے۔“ پنجاب آبزرور جو اس وقت مسلمانوں کا واحد انگریزی اخبار تھا ( جسے خواجہ احمد شاہ صاحب رئیس اعظم لودہانہ نے جاری کرایا تھا) نے نہ صرف اس مضمون کی فوقیت اور اثر کا ذکر کیا بلکہ اس نے یہ رائے دی کہ اس مضمون کا انگریزی ترجمہ کر کے ممالک مغربیہ میں شائع کیا جاوے۔“ پنجاب آبزور اس تحریک کی وجہ سے عنداللہ ماجور ہوگا۔مگر خود حضرت چاہتے تھے کہ اسے یورپ میں شائع کیا جاوے۔چنانچہ چنگس آف اسلام کے نام سے اس کا انگریزی اڈیشن یورپ و امریکہ میں شائع ہوا اور اس کے ترجمہ کی سعادت مکرم معظم مولا نا مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے ایڈیٹر ریویو آف ریــلیــجـنـز کو حاصل ہوئی اور زاں بعد اس کے متعدد ایڈیشن شائع ہوئے اور مختلف زبانوں میں اس کی اشاعت کی سعادت حضرت سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب سکندر آبادی کے حصہ میں آئی انہوں نے نہ صرف اردو ایڈیشن اور انگریزی ایڈیشن کی ہزاروں کا پیاں شائع کیں بلکہ دوسری