حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 384 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 384

حیات احمد ۳۸۴ جلد چهارم زبانوں میں کثیر خرچ کر کے اسے شائع کرایا۔جَزَاهُ اللَّهُ أَحْسَنَ الْجَزَاءِ حق بر زبان جاری یہاں تک کہ بعض شدید مخالفین نے بھی اعتراف کیا کہ اس مضمون نے اسلام کو فتح نمایاں دی خود مولوی محمد حسین بٹالوی نے یہ اعتراف کیا۔منشی محبوب عالم ایڈیٹر پیسہ اخبار (جن کے دفتر میں میں نے اخبار نویسی کا عملی کو رس پڑھا اور میرے ساتھ ان کے تعلقات مخلصانہ تھے چنانچہ جب میں (۲۹ ۱۹۳۰ء) بمبئی میں تھا۔وہ اپنی صاحبزادی محترمہ فاطمہ بیگم صاحبہ کے پاس آئے ہوئے تھے روزانہ اپنی صبح کی سیر کے خاتمہ پر میرے پاس آکر کم از کم آدھا پونا گھنٹہ بیٹھتے اور مختلف امور ماضیه و جاریہ پر تبادلہ خیالات کرتے) نے مجھ سے بیان کیا کہ میں برابر پوری توجہ سے اس مضمون کو سنتا رہا ہوں پرانی روایات یا اس ماحول کی وجہ سے جس میں میں نے پرورش پائی ہے میں مرزا صاحب کے دعاوی کو تسلیم تو نہیں کرتا مگر اس میں شبہ نہیں کہ اس جلسہ میں جو مضمون انہوں نے پیش کیا ہے اس کا ایک ایک فقرہ مجھ پر وجد طاری کرتا تھا اور بعض اوقات میں اپنی حرکات سے بے اختیار داد دینے پر مجبور ہو جاتا تھا۔اس مضمون میں وہ اسرار بیان ہوئے ہیں جو کسی ظاہری علم اور فکر کا نتیجہ نہیں ہو سکتے۔اسی جلسہ میں مشہور اور مسلم عالم دین مولوی محمد حسین صاحب نے بھی مضمون پڑھا مگر اس میں وہ جذب اور اثر نہ تھا جو اس مضمون میں پایا گیا میں نے ان کو کہا کہ یہ جذب و تاخیر ہی حضرت مرزا صاحب کے منجانب اللہ ہونے کی دلیل ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ انہوں نے قبل از وقت اعلام الہی سے اس مضمون کے بالا تر رہنے کی پیش گوئی کی باوجود یکہ وہ خود موجود نہ تھے مگر آپ کے کلام میں وہ قوت کشش اور اثر تھی کہ لوگ حاجات ضرور یہ کے لئے حاشیہ۔راقم الحروف کو اپنے قیام انگلستان کے زمانہ (۲۵ ۱۹۲۷ء) میں ایک رؤیا کے ذریعہ اس کی قبولیت کا نظارہ دکھایا گیا اور حضرت حکیم الامت نے اھل الجنۃ میں اس کے تذکرہ کی بشارت دی لِلَّهِ الْحَمْدُ (عرفانی)