حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 379 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 379

حیات احمد جلد چهارم ساڑھے چار بجے ختم ہو جانی تھی لیکن عام خواہش دیکھ کر کارروائی جلسہ پانچ بجے کے بعد تک جاری رکھنی پڑی۔کیونکہ یہ مضمون قریباً چار گھنٹہ میں ختم ہوا اور شروع سے اخیر تک یکساں دلچسپی و مقبولیت اپنے ساتھ رکھتا تھا۔آج اور کل کے اجلاس نے جو اپنی شان وشوکت اور کثرت ہجوم میں چکا گو (Chicago) کے پارلیمنٹ آف ریلیجن سے کسی حیثیت میں کم نہ تھا اس بات کا بھی کافی ثبوت دے دیا کہ وہی وجوہ جنہوں نے ہندو اور مسلمانوں جیسی معزز ہندوستان کی جماعتوں کو ایک دوسرے کے سخت مخالف کر رکھا ہے وہی ان کو برادرانہ اخلاص کے ساتھ ایک جگہ جمع کر سکتے ہیں۔ایک وقت یہ خیال کیا جا سکتا تھا کہ صرف پولیٹکس سے ان دو متفرق اور متضاد جماعتوں کو باہم ملا سکتے ہیں لیکن نیشنل کانگریس کی ہسٹری اس خیال کی موید نہیں ہاں آج دہرم مہوتسو کے اجلاس نے یہ امر پایہ ثبوت تک پہنچا دیا کہ میٹیوز (دیسی) جو ہر طرح اتفاق اور قومی معاملات میں حقارت کے ساتھ دیکھے جاسکتے ہیں وہ اگر عمدہ اصولوں پر جمع ہو کر کچھ کرنا چاہیں تو ان سے بڑھ کر کوئی اور آپس میں شیر و شکر نہیں ہو سکتا۔ہمیں امید ہے کہ یہ جلسہ مذاہب اس ضرورت کو بالضرور پورا کرے گا جس کو کوئی اور تحریک ہندوستان میں نہ کر سکے اور امید کی جاتی ہے کہ یہی خواہانِ ملک اس مذہبی تحریک کی ترقی اور قیام میں اگر کسی اور وجہ پر سعی نہ فرماویں تو یہی خیال کافی ہے کہ صرف یہی ایک پلیٹ فارم ہے جو ہندو مسلمان اور دیگر فرقوں کو برادرانہ رنگ میں ایک جگہ جمع کر سکتا ہے۔“ ایک دن کا اضافہ ہوا رپورٹ جلسہ اعظم مذاہب صفحہ ۷۹ ۸۰ مطبوعہ مطبع صدیقی لاہور ۱۸۹۷ء) مضمون ختم نہیں ہوا تھا۔اور پبلک بے حد مشتاق تھی اور اس نے زور دیا کہ پورا مضمون سنایا جاوے اور موڈریٹر صاحبان ایک دن بڑھانے پر مجبور ہو گئے چنانچہ انہوں نے جلسہ عام میں اعلان کیا۔