حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 378
حیات احمد ,, جلد چهارم پنڈت گور دہن صاحب کی تقریر کے بعد نصف گھنٹہ کا وقفہ تھا لیکن چونکہ بعد از وقفہ ایک نامی وکیل اسلام کی طرف سے تقریر کا پیش ہونا تھا۔اس لئے اکثر شائقین نے اپنی اپنی جگہ کو نہ چھوڑا ڈیڑھ بجنے میں ابھی بہت سا وقت رہتا تھا کہ اسلامیہ کالج کا وسیع مکان جلد جلد بھرنے لگا اور چند ہی منٹوں میں تمام مکان پر ہو گیا۔اس وقت کوئی سات اور آٹھ ہزار کے درمیان مجمع تھا۔مختلف مذاہب و ملل اور مختلف سوسائٹیوں کے معتد بہ اور ذی علم آدمی موجود تھے اگر چہ کرسیاں اور میزیں اور فرش نہایت ہی وسعت کے ساتھ مہیا کیا گیا لیکن صدہا آدمیوں کو کھڑا ہونے کے سوا اور کچھ نہ بن پڑا اور ان کھڑے ہوئے شائقینوں میں بڑے بڑے رؤسا۔عمائدِ پنجاب۔علما۔فضلا۔بیرسٹر۔وکیل۔پروفیسر۔اکسٹرا اسٹنٹ۔ڈاکٹر۔غرض کہ اعلیٰ طبقہ کے مختلف برانچوں کے ہر قسم کے آدمی موجود تھے۔ان لوگوں کے اس طرح جمع ہو جانے اور نہایت صبر وتحمل کے ساتھ جوش سے برابر پانچ چار گھنٹہ اُس وقت ایک ٹانگ پر کھڑا رہنے سے صاف ظاہر ہوتا تھا کہ ان ذی جاہ لوگوں کو کہاں تک اس مقدس تحریک سے ہمدردی تھی۔مصنف تقریر اصالتا تو شریک جلسہ نہ تھے لیکن خود انہوں نے اپنے ایک شاگرد خاص جناب مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوئی مضمون پڑھنے کے لئے بھیجے ہوئے تھے۔اس مضمون کے لئے اگر چہ کمیٹی کی طرف سے صرف دو گھنٹے ہی تھے لیکن حاضرین جلسہ کو عام طور پر اس سے کچھ ایسی دلچسپی پیدا ہوگئی کہ موڈریٹر صاحبان نے نہایت جوش اور خوشی کے ساتھ اجازت دی کہ جب تک یہ مضمون نہ ختم ہوا تب تک کارروائی جلسہ کوختم نہ کیا جاوے ان کا ایسا فرمانا عین اہل جلسہ اور حاضرین جلسہ کی منشا کے مطابق تھا کیوں کہ جب وقت مقررہ کے گزرنے پر مولوی ابو یوسف مبارک علی صاحب نے اپنا وقت بھی اس مضمون کے لئے دے دیا تو حاضرین اور موڈریٹر صاحبان نے ایک نعرہ خوشی سے مولوی صاحب کا شکریہ ادا کیا۔جلسہ کی کارروائی