حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 377
حیات احمد ۳۷۷ جلد چهارم آئے بلکہ اکثر خطوط اور تاریں ایسی بھی موصول ہوئیں جن میں بعض بزرگوں نے صرف آج کے دن کے لئے شامل جلسہ ہونے کا ارادہ ظاہر کیا۔زمین پر فرش نشست کو وسعت دینے کے علاوہ کئی درجن کرسیاں اور نیز میزیں بچھوائی گئیں ٹھیک دس بجے اگزیکٹیو کمیٹی کے ممبروں نے اپنی معمولی کارروائی شروع کی اور ماسٹر درگا پرشاد صاحب کی خاص تحریک اور باقی ممبروں کی بالا تفاق تائید سے آج کے دن کی صدارت کے لئے مولوی حکیم نورالدین صاحب طبیب شاہی موڈریٹر صاحبان میں سے انتخاب کئے گئے۔اس فیصلہ کے اظہار کے لئے ٹھیک سوا دس بجے کے قریب ماسٹر صاحب موصوف نے ذیل کے الفاظ بیان فرمائے۔معزز صاحبان۔پر میشر کا خاص شکریہ ہے اس کامیابی کے لئے جو ہم کو کل نصیب ہوئی جس امن اور محبت کے ساتھ اور صبر کے ساتھ آپ نے کل کی تقریروں کو سنا امید ہے کہ آج بھی آپ اسی طرح کریں گے۔آج کے دن کی کارروائی کے لئے میں کمیٹی کا فیصلہ آپ کو سنانے آیا ہوں اور وہ یہ ہے کہ آج ہمارے کارروائی کے لئے حکیم نورالدین صاحب پریسیڈنٹ مقرر ہوئے ہیں۔جو یہاں بیٹھے ہیں اور جن کو آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ کیسے عالم فاضل اور دیندار ہیں۔میں ان کی خدمت میں التماس کرتا ہوں کہ آج کے دن کی کارروائی شروع کریں۔“ رپورٹ جلسہ اعظم مذاہب صفحہ ۵۶،۵۵، مطبوعہ مطبع صدیقی لاہور۱۸۹۷ء) آپ نے کرسی صدارت پر فائز ہوتے ہوئے ایک نہایت لطیف تقریر کی اور جلسہ کا آغاز مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کی تقریر سے ہوا۔اُن کے بعد آریہ سماج کے ایک نمائندہ نے تقریر کی۔اور ان کی تقریر کے بعد ایک فری تھنکر پنڈت گور دہن داس (جوان ایام میں بہت مشہور دہریہ تھے ) نے تقریر کی اور وقفہ کے بعد جو اجلاس ہونے والا تھا اس میں حضرت اقدس کی تقریر پڑھی جانی تھی۔اس کے متعلق رپورٹ میں درج ہے۔