حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 376
حیات احمد جلد چهارم راقم الحروف کو ایک سعادت کا شرف جیسا کہ سیکرٹری صاحب نے بیان کیا بعض زبانی تقریروں کے لئے رپورٹروں کا انتظام کیا گیا تھا ان میں یہ خاکسار عرفانی جو اس وقت تراب کہلاتا تھا مقرر ہوا چنانچہ ماسٹر درگا پرشاد کی ابتدائی تقریر اور سردار جواہر سنگھ کی تقریر حضرت حکیم الامت نورالدین کی تقریریں جو انہوں نے به حیثیت صدر جلسہ کیں اور سب سے آخری تقریر ان کی بھی تھی اور میں اپنی اس خوش بختی پر مولیٰ کریم کے حضور سر بسجو د ہوں کہ محض اس کے فضل و کرم سے میں اس سعادت سے حصہ لے سکا۔ان تقریروں کے آخر میں جو تقریریں مختصر ا نا ظمان جلسہ نے کیں ان کے نوٹ بھی میں نے ہی لکھ کر دیئے تھے اور یہ تمام تقریریں رپورٹ جلسہ مذاہب میں شائع ہو چکی ہیں۔اس جلسہ میں سوالات زیر بحث اور موڈریٹر صاحبان کا ذکر تو انٹروڈکشن میں آچکا ہے اس جلسہ میں سناتن دھرم۔آریہ سماج۔تھیا سوفیکل سوسائٹی۔عیسائی مذہب۔فری تھنکر اور سکھ ازم کے نمائندوں نے بھی تقریریں کیں۔ان میں سے راقم الحروف ذاتی طور پر ماسٹر درگا پر شاد۔پنڈت اشیری پرشاد۔پنڈت گوپی ناتھ اور پنڈت بھانو دت سے تعارف نہیں بے تکلفی کے تعلقات رکھتا تھا۔حضرت اقدس کی تقریر کا منظر حضرت اقدس کی تقریر کے وقت کے مناظر میرے چشم دید ہیں مگر میں نے پسند کیا کہ شائع شدہ رپورٹ کے بعض اقتباس درج کر دوں ۲۷ / دسمبر بروز اتوار آپ کی تقریر شروع ہونے والی تھی آج کے اجلاس کے صدر حضرت حکیم الامت تھے ان کی صدارت کے متعلق تحریک کرتے ہوئے رپورٹ میں درج ہے۔گزشتہ روز کی کامیابی اور خصوصاً اتوار کے پروگرام نے کل پنجاب کے ذی علم احباب اور عماید کو جلسہ میں آج لا جمع کیا۔مختلف علاقوں سے نہ صرف ہمدردی کے تار