حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 28 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 28

حیات احمد ۲۸ جلد چهارم اوم پر ماتمنے تم۔ہی سچد ا بند سروپ پر ما تماست کا پر کاش کر اور است کا ناش کرتا کہ تیری است و ید و د یا سب سنسار میں پر مرت ہو دلیے پھر بعد اس کے طول طویل معاہدہ کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر کوئی پیش گوئی لیکھرام کو جتلائی جائے اور وہ سچی نہ ہو تو وہ ہندو مذہب کی سچائی کی دلیل ہوگی اور فریق پیشگوئی کرنے والے پر لازم ہوگا کہ آریہ مذہب کو اختیار کرے یا تین سو ساٹھ روپیہ لیکھرام کو دے دے جو پہلے سے شرمیپت ساکن قادیان کی دوکان پر جمع کرا دینا ہوگا۔اور اگر پیشگوئی کرنے والا سچا نکلے تو اسلام کی سچائی کی یہ دلیل ہوگی اور پنڈت لیکھرام پر واجب ہوگا کہ مذہب اسلام قبول کرتے۔پھر بعد اس کے وہ پیش گوئی بتلائی گئی۔جس کی رو سے ۶ مارچ ۱۸۹۷ء کو لیکھرام کی زندگی کا خاتمہ ہوا۔لیکن پہلے اس سے جو وہ پیش گوئی لیکھرام پر ظاہر کی جاتی مکرراً بذریعہ اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء ان کو اطلاع دی گئی تھی کہ اگر ان کو پیش گوئی کے ظاہر کرنے سے رنج پہنچے تو اس کو ظاہر جائے۔مگر لیکھرام نے بڑی شوخی اور دلیری سے جیسا کہ اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۹۳ء میں اس بات کا ذکر ہے ایک کارڈ اپنا د تخطی میری طرف روانہ کیا کہ ”میں آپ کی پیش گوئیوں کو واہیات سمجھتا ہوں۔میرے حق میں جو چاہو شائع کرو۔میری طرف سے اجازت ہے اور میں کچھ خوف نہیں کرتا۔“ اس پر بھی ہماری طرف سے بڑی توقف ہوئی۔اور نیز یہ باعث ہوا کہ ابھی لے یہ شرط جو لیکھرام اسلام کو قبول کرے یہ اس وقت کی شرط ہے جب کہ کچھ معلوم نہ تھا کہ جو پیشگوئی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوگی اس کا مضمون کیا ہوگا۔منہ سے لیکھرام نے پیش گوئی کے انجام کے لئے دعا کی تھی کہ اگر اسلام سچا ہے تو ان کی پیشگوئی سچی نکلے اور اگر ہندو مذہب سچا ہے تو ان کی پیش گوئی جو کچھ کریں گے جھوٹی نکلے۔اب ہم ناظرین سے پوچھتے ہیں کہ اگر اس لیکھرام والی پیش گوئی کو جھوٹی سمجھا جاوے تو کس فریق پر اس دعا کا بداثر پڑے گا۔منہ