حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 27 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 27

حیات احمد ۲۷ جلد چهارم کرتا ہے یہ خود آپ کی نا سمجھی ہے۔مکر لطیف اور مخفی تدبیر کو کہتے ہیں۔جس کا اطلاق خدا پر نا جائز نہیں اور عرش کا کلمہ خدا تعالیٰ کی عظمت کے لئے آتا ہے کیونکہ وہ سب اونچوں سے زیادہ اونچا اور جلال رکھتا ہے۔یہ نہیں کہ وہ کسی انسان کی طرح کسی تخت کا محتاج ہے۔خود قرآن میں ہے کہ ہر چیز کو اس نے تھاما ہوا ہے اور وہ قیوم ہے جس کو کسی چیز کا سہارا نہیں۔پھر جب قرآن شریف یہ فرماتا ہے تو عرش کا اعتراض کرنا کتنا ظلم ہے۔آپ عربی سے بے بہرہ ہیں۔آپ کو مکر کے معنے بھی معلوم نہیں۔مکر کے مفہوم میں کوئی ایسا نا جائز امر نہیں ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب نہیں ہوسکتا۔شریروں کو سزا دینے کے لئے خدا کے جو باریک اور مخفی کام ہیں ان کا نام مکر ہے۔لغت دیکھو پھر اعتراض کرو۔میں اگر بقول آپ کے دید سے امتی ہوں تو کیا حرج ہے کیونکہ میں آپ کے مسلمہ اصول کو ہاتھ میں لے کر بحث کرتا ہوں مگر آپ تو اسلام کے اصول سے باہر ہو جاتے ہیں۔صاف افترا کرتے ہیں۔چاہیے تھا کہ عرش پر خدا کا ہونا جس طور سے مانا گیا ہے اوّل مجھ سے دریافت کرتے پھر اگر گنجائش ہوتی تو اعتراض کرتے اور ایسا ہی مکر کے معنے پہلے پوچھتے پھر اعتراض کرتے اور نشان خدا کے پاس ہیں۔وہ قادر ہے جو آپ کو دکھاوے۔وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى خاکسار میرزا غلام احمد مکتوبات احمد جلد اصفحہ ۷۶ ۷۷ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) معاہدہ نشان نمائی اس خط و کتابت کے سلسلہ میں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ لکھا گیا جس کا عنوان خود پنڈت لیکھرام صاحب نے لکھا اور وہ حسب ذیل ہے۔