حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 369
حیات احمد ۳۶۹ جلد چهارم کتاب ست بچن کی تالیف ہے اس کتاب کی تالیف کے لئے خدا تعالیٰ نے مجھے وہ سامان عطا کئے جو تین سو برس سے کسی کے خیال میں بھی نہ آئے تھے۔میری یہ کتاب سولہ لاکھ سکھ صاحبان کے لئے ایسی ایک لطیف دعوت ہے جس سے میں امید کرتا ہوں کہ ان کے دلوں پر بہت اثر پڑے گا۔میں اس کتاب میں باوانانک صاحب کی نسبت ثابت کر چکا ہوں کہ باوا صاحب در حقیقت مسلمان تھے اور لا اله الا الله محمد رسول اللہ آپ کا ورد تھا۔آپ بڑے صالح آدمی تھے آپ نے دو مرتبہ حج بھی کیا۔اور اولیاء اسلام کی قبور پر اعتکاف بھی کرتے رہے۔جنم ساکھیوں میں آپ کے وصایا میں اسلام اور تو حید اور نماز روزہ کی تاکید پائی جاتی ہے۔آپ نماز کے بہت پابند تھے اور بنفس نفیس خود بانگ بھی دیا کرتے تھے آخری شادی آپ کی ایک نیک بخت مسلمان لڑکی سے ہوئی تھی۔جس سے سمجھا جاتا ہے کہ آپ نے بدل مسلمانوں کے ساتھ تعلق رشتہ بھی پیدا کر لیا تھا۔اور اسی کتاب میں لکھا ہے کہ آپ کی بھاری یادگار وہ چولہ ہے جس پر کلمہ شریف اور قرآن شریف کی بہت سی آیتیں لکھی ہوئی ہیں۔آپ نے یادگار کے طور پر گرنتھ کو نہیں چھوڑا۔اور نہ اس کے جمع کرنے کے لئے کوئی وصیت کی صرف اس چولہ کو چھوڑا جس پر قرآن شریف لکھا ہوا تھا اور جس پر جلی قلم سے لکھا ہوا تھا اِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللهِ الْإِسلام۔یعنی سب دین جھوٹے ہیں مگر اسلام۔پس یہ کتاب جو بعد مباہلہ تیار ہوئی یہ وہ عطیہ عو ربانی ہے جو مجھ کو ہی عطا کیا گیا اور خدا نے اس تبلیغ کا ثواب مجھ کو ہی عطا فرمایا۔نواں امر جو مباہلہ کے بعد میری عزت کے زیادہ ہونے کا موجب ہوا یہ ہے کہ اس عرصہ میں آٹھ ہزار کے قریب لوگوں نے میرے ہاتھ پر بیعت کی اور بعض نے قادیان پہنچ کر اور بعض نے بذریعہ خط تو بہ کا اقرار کیا۔پس میں یقیناً جانتا ہوں کہ اس قدر بنی آدم کی توبہ کا ذریعہ جو مجھ کو ٹھہرایا گیا یہ اس قبولیت کا نشان ہے جو خدا کی