حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 370 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 370

حیات احمد جلد چهارم ☆ رضامندی کے بعد حاصل ہوتی ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ میری بیعت کرنے والوں میں دن بدن صلاحیت اور تقویٰ ترقی پذیر ہے۔اور ایام مباہلہ کے بعد گویا ہماری جماعت میں ایک اور عالم پیدا ہو گیا ہے۔میں اکثر کو دیکھتا ہوں کہ سجدہ میں روتے اور تہجد میں تضرع کرتے ہیں۔ناپاک دل کے لوگ ان کو کافر کہتے ہیں۔اور وہ اسلام کا جگر اور دل ہیں۔دسواں امر جو عبد الحق کے مباہلہ کے بعد میری عزت کا موجب ہوا جلسہ مذاہب لا ہور ہے اس جلسہ کے بارے میں مجھے زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں۔جس رنگ اور نورانیت کی قبولیت میرے مضمون کے پڑھنے میں پیدا ہوئی اور جس طرح دلی جوش سے لوگوں نے مجھے اور میرے مضمون کو عظمت کی نگہ سے دیکھا کچھ ضرورت نہیں کہ میں اس کی تفصیل کروں۔بہت سی گواہیاں اس بات پر سن چکے ہو کہ اس مضمون کا جلسہ مذاہب پر ایسا فوق العادت اثر ہوا تھا کہ گویا ملائک آسمان سے نور کے طبق لے کر حاضر ہو گئے تھے۔ہر ایک دل اس کی طرف ایسا کھینچا گیا تھا کہ گویا ایک دست غیب اس کو کشاں کشاں عالم وجد کی طرف لے جا رہا ہے۔سب لوگ بے اختیار بول اٹھے تھے کہ اگر یہ مضمون نہ ہوتا تو آج باعث محمد حسین وغیرہ کے اسلام کو سبکی اٹھانی پڑتی۔ہر ایک پکارتا تھا کہ آج اسلام کی فتح ہوئی۔مگر سوچو کہ کیا یہ فتح ایک دجال کے مضمون سے ہوئی۔پھر میں کہتا ہوں کہ کیا ایک کافر کے بیان میں یہ حلاوت اور یہ برکت اور یہ تاثیر ڈال دی گئی۔وہ جو مومن کہلاتے تھے اور آٹھ ہزار مسلمان کو کافر کہتے تھے جیسے محمد حسین بٹالوی، خدا نے اس جلسہ میں کیوں ان کو ذلیل کیا۔کیا یہ وہی الہام نہیں کہ ”میں تیری اہانت کرنے والوں کی اہانت کروں گا۔“ اس جلسہ اعظم میں ایسے شخص کو کیوں عزت دی گئی جو مولویوں کی نظر میں کافر مرتد ہے۔کیا کوئی مولوی حاشیہ۔حضرت مسیح موعود نے اس سے آگے اپنے بعض مخلص صحابہ اور مخلص جماعتوں کا ذکر فرمایا ہے۔(ناشر)