حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 368
حیات احمد ۳۶۸ جلد چهارم اور چیز کا نام ذلت ہے کہ جو کچھ اس نے کہا پورا نہ ہوا اور جو کچھ میں نے خدا کے الہام سے کہا خدا نے اس کو پورا کر دیا۔چنانچہ ضیاء الحق میں بھی اسی لڑکے کا ذکر لکھا گیا ہے۔ساتواں امر جو مباہلہ کے بعد میری عزت اور قبولیت کا باعث ہوا خدا کے راستباز بندوں کا وہ مخلصانہ جوش ہے جو انہوں نے میری خدمت کے لئے دکھلایا۔مجھے کبھی یہ طاقت نہ ہوگی کہ میں خدا کے ان احسانات کا شکر ادا کرسکوں جو روحانی اور جسمانی طور پر مباہلہ کے بعد میرے وارد حال ہو گئے روحانی انعامات کا نمونہ میں لکھ چکا ہوں یعنی کہ خدا تعالیٰ نے مجھے وہ علم قرآن اور علم زبان محض اعجاز کے طور پر بخشا کہ اس کے مقابل پر صرف عبد الحق کیا بلکہ کل مخالفوں کی ذلت ہوئی۔ہر ایک خاص و عام کو یقین ہو گیا کہ یہ لوگ صرف نام کے مولوی ہیں گویا یہ لوگ مر گئے۔عبدالحق کے مباہلہ کی نحوست نے اس کے اور رفیقوں کو بھی ڈبویا۔اور جسمانی نعمتیں جو مباہلہ کے بعد میرے پر وارد ہوئیں وہ مالی فتوحات ہیں جو اس درویش خانہ کے لئے خدا تعالیٰ نے کھول دیں۔مباہلہ کے روز سے آج تک پندرہ ہزار کے قریب فتوح غیب کا روپیہ آیا۔جو اس سلسلہ کے ربّانی مصارف میں خرچ ہوا۔جس کو شک ہو وہ ڈاکخانہ کی کتابوں کو دیکھ لے اور دوسرے ثبوت ہم سے لے لے۔اور رجوع خلائق کا اس قدر مجمع بڑھ گیا کہ بجائے اس کے کہ ہمارے لنگر میں ساٹھ یا ستر روپیہ ماہواری کا خرچ ہوتا تھا اب اوسط خرچ کبھی پانچ سو کبھی چھ سو ماہواری تک ہو گیا ہے اور خدا نے ایسے مخلص اور جان فشان ارادتمند ہماری خدمت ☆ میں لگا دیئے کہ جو اپنے مال کو اس راہ میں خرچ کرنا اپنی سعادت سمجھتے ہیں۔آٹھواں امر جو مباہلہ کے بعد میری عزت زیادہ کرنے کے لئے ظہور میں آیا حاشیہ۔اس کے تحت حضرت اقدس نے سلسلہ کے بعض بعض مخلصین کا نام بنام ذکر فرمایا۔(عرفانی)